Showing posts with label Urdu Stories. Show all posts
Showing posts with label Urdu Stories. Show all posts

Wednesday, May 23, 2018

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک دفعہ اللہ تعالیٰ سے پوچھا میرے ساتھ جنت میں کون ہو گا تو جواب کیا ملا ۔۔ ایمان افروز تحریر آپ بھی پڑھیں

OPEN HERE
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک دفعہ اللہ تعالیٰ سے پوچھا میرے ساتھ جنت میں کون ہو گا ؟ارشاد ہوا “فلاں قصاب تمہارے ساتھ ہو گا”حضرت موسیٰ علیہ السلام کچھ حیران ہوئے اور اس قصاب کی تلاش میں چل پڑے وہاں دیکھا تو ایک قصاب اپنی دوکان میں گوشت بیچنے میں مصروف تھا ، اپنا کاروبار ختم کر کے اس نے ایک گوشت کا ٹکڑاایک کپڑے میں لپیٹا اور گھر کی طرف روانہ ہو گیا


،حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس قصاب کے بارے میں مزید جاننے کیلئے بطور مہمان گھر چلنے کی اجازت چاہی۔گھر پہنچ کر قصاب نے گوشت پکایا پھر روٹی پکا کر اسکے ٹکڑے شوربے میں نرم کیے اور دوسرے کمرے میں چلا گیا ،جہاں ایک انتہائی کمزور بڑھیا پلنگ پر لیٹی ہوئی تھی ، قصاب نے بمشکل تمام اسے سہارا دیکر اٹھایا ، ایک ایک لقمہ اسکے منہ میں دیتا رہا ، جب اس نے کھانا تمام کیا تو اس نے بڑھیا کا منہ صاف کر دیا کھانا کھا کر بڈھیا نے قصاب کے کان میں کچھ کہا ، جسے سن کر قصاب مسکرا دیا ، اور بڑھیا کو واپس لٹا کر باہر آ گیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام جو یہ سب دیکھ رہے تھے ، آپ نے قصاب سے پوچھا یہ عورت کون ہے اور اس نے تیرے کان میں کیا کہا جس پر تو مسکرا دیا ؟قصاب بولا اے اجنبی ! یہ عورت میری ماں ھے ، گھر پر آنے کے بعد میں سب سے پہلے اس کے کام کرتا ہوں تو خوش ہو کر روز مجھے یہ دعا دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے جنت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ رکھے اور میں مسکرا دیتا ہوں کہ میں کہاں اور موسیٰ کلیم اللہ کہاں ؟

انشاء اللہ رمضان کے مہینے میں جو مانگو گے ملے گا؟ اگر نہیں یکیں تو یہ طریقہ آزمائیں۔۔


بس یہ آیت پڑھیں ۔انشا ئ اللہ آپ کی ہر خواہش پوری ہوگی۔ صرف 15دفعہ آیت پڑھیں ہر کوئی آپ کی بات مانے گا جیسا چاہو گے انشا ویساہی ہوگا۔ آج ہم آپ کو ایک ایسا وظیفہ بتائیں گے جو بہت ہی آسان ہیں جس کے کرنے سے ہر کوئی آپ کی بات مانے گا اور مرضی کے مطابق ہو گا ۔وظیفہ کے بارے میں بتانے سے پہلے ایک بات یاد رہے تمام قرآنی وظائف کا شیطانی جادو ساے موازنہ ہرگز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ قر آنی وظائف نورے رحمان اور جادوثفتے شیطان ہےرحمان اور شیطان کی جنگ میں فتح حق یانی اللہ کے قدرتے قانون کی ہوتی ہے ۔شیطان کا جاودوجتنا بھی تیز ہو آخر قرآن پاک کی برکات سے زائیل ہو جاتا ہے قرآنی آیات کا استعمال اچھائی کے لیے کرنا چاہیے بڑائی کے لیے نہیں جو لوگ قرآنی آیت سے جلد اور لازمی توقعہ رکھتے ہیں
۔وہ یہ بات بھول جاتے ہیںتمام قرآنی آیت میں انسان کی حاجت اور مقصد میں پورا ہونے میں اس کے عمال اور مقصد کا جائز ہونا لازمی شر ط ہے
۔ مثال کے طور پر کوئی بھی شخص اپنے دوست آفیسریا کسی سے بھی اپنی بات منوانا چاہتا ہے ۔تو وہ بات کس حد تک جائز ہے۔اور اس کا مقصد کتنا نیک ہے۔اگر بات جائز ہے مقصد نیک ہے ۔اور بات منوانے والا شخص نیک ہے ۔تو اللہ تعالی ہر حالت میں اس کی بات کو اس شخص سے منوائے گا۔دوستو اب آپ سمجھ گئے ہو گے اس وظیفے دارومدارانسان کے کام اور اس کے نیک مقصد پر منصر کرتا ہے ۔اس وظیفے کو کوئی بھی شخص نیک حاجت اور اچھے مقصد کے لیے کرے گا تو کامیابی لازم حاصل ہو گی ۔اگر کامیابی نہ ہو تو مایوس ہو کر اس وظیفے کو نہ چھوڑیں۔ایک سے دو مرتبہ کوشش کریںاگر اس کے باوجود بھی حاجت پوری نہ ہو تو اللہ کی رضا سمجھ کر صبر کریں کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ اس وظیفے کی اجازت ہر خاص عام کو ہے لیکن نیک مقصد کے لیے اوروظیفہ یہ ہے ۔ سب سے پہلے نماز کی پابندی کریں اور پھر یہ وظیفہ کسی کے نقصان کی نیت سے نہیں کرناوظیفہ کرنے سے پہلے باوضو ہو جائیں۔ سب سے پہلے درود شریف پڑھیں پھر پندرہ دفعہ یہ آیت

Friday, May 11, 2018

جو تمھارے حصے کا ہے وہ تمھیں ضرور ملے گا


مشہور مؤرخ ابن جریر طبری کہتے ہیں کہ میں ایک سال حج کے زمانے میں مکہ مکرمہ میں تھا تو میں نے خراسان ( اس دور میں خراسان‘ ایران اور افغانستان سمیت ارد گرد کے کئی ممالک کو کہا جاتا تھا) سے آئے ہوئے ایک شخص کو یہ اعلان کرتے ہوئے سنا ‘ وہ کہہ رہا تھا :’’ اے مکہ کے رہنے والو! اے حج کیلئے دور دراز سے آنے والو! میری ایک تھیلی گم ہو گئی ہے جس میں ایک ہزار دینار تھے ۔ جو شخص بھی مجھے وہ واپس کر دے تو اللہ تعالیٰ اُسے بہترین جزادے اور زادے اور جہنم سے آزادی عطا کرے‘‘( دینار سونے کا سکہ ہوتا تھا اور آج کل کے حساب سے اس کا وزن 4, 347گرام بنتا ہے ۔اس طرح اندازہ کر لیں کہ ایک ہزار دینار ، اچھا خاصا سونے کا خزانہ تھا)یہ اعلان سنتے ہی مکہ مکرمہ کے ایک بوڑھے صاحب اٹھے اور انہوں نے اُس اعلان کرنے والے کو مخاطب کر کے کہا :’’ اے خراسانی بھائی ! ہمارے شہر کے حالات آج کل بہت ہی دگرگوں ہیں ۔ ہر طرف قحط سالی نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں ۔ مزدوری کے مواقع بھی نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ فقر و غربت کا دور دورہ ہے ۔ آپ کیلئے میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ اُس شخص کیلئے جو آپ کا مال لوٹا دے‘ کچھ انعام کا اعلان کردو ۔ ممکن ہے کہ وہ مال کسی فقیر اور محتاج کے ہاتھ لگا ہو تو جب وہ انعام کا اعلان سنے گا تو آپ کا مال لا کر دے دے گا ۔ تاکہ اُسے بھی حلال طریقے سے کچھ دینار مل جائیں‘‘۔خراسانی شخص نے پوچھا:’’ آپ کے خیال میں ایسے شخص کا انعام کتنا ہونا چاہیے؟‘‘۔مکہ مکرمہ کے رہائشی اُن بزرگ عمر شخص نے کہا :’’ ایک ہزار دینار میں سے کم از کم سو دینار تو ہونے ہی چاہئیں ‘‘۔لیکن خراسانی شخص اس پر راضی نہیں ہوا اور اُس نے کہا :’’ میں اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے کرتا ہوں ۔ آج مجھے مال نہ ملا تو کوئی بات نہیں ‘روزِ قیامت تو مل ہی جائے گا ‘‘۔ابن جریرطبری کہتے ہیں کہ میں یہ سارا مکالمہ سن رہا تھا اور میں سمجھ گیا کہ یہ مال کسی اور کو نہیں اسی بابا جی کو ملا ہے لیکن یہ بغیر کسی حلال انعام کے اُسے واپس نہیں کرنا چاہتا ہے ۔ شاید یہ بہت محتاج اور فقیر ہے ۔ میں نے اپنے شک کو یقین میں بدلنے کیلئے اور اصل صورت حال سمجھنے کیلئے اُس کا پیچھا کیا کہ یہ کہاں جاتا ہے؟وہ بابا جی اپنی جگہ سے اٹھے اور مکہ مکرمہ ایک پرانے محلہ کے کچے گھر میں داخل ہوئے ۔ ابن جریر طبری باہر کان لگا کر سن رہے تھے ۔ اندر گھر سے آواز آئی کہ بابا جی اپنی اہلیہ کو کہہ رہے تھے:’’ اے لبابہ ! دیناروں کا مالک مل چکا ہے اور اب ہمیں دینار واپس ہی کرنے پڑیں گے ۔ میں نے اُسے کچھ انعام دینے کا ہی کہا لیکن وہ تو اس سے بھی انکاری ہے‘‘۔کئی دنوں سے فاقے کی ستائی ہوئی اہلیہ نے جواب دیا :’’ میں پچاس سال سے آپ کے ساتھ غربت بھری زندگی بسر کر رہی ہوں لیکن کبھی اپنی زبان پر حرفِ شکایت نہیں لائی ۔ لیکن اب تو کئی دنوں سے فاقہ ہے ۔ پھر ہم دونوں کی ہی بات نہیں ۔ گھر میں ہماری چار بیٹیاں ، آپ کی دو بہنیں اور آپ کی والدہ بھی ہیں ۔ انہی کا کچھ خیال کر لو ۔ یہ مال جیسا بھی ہے آج خرچ کر لو ۔ کل کو ممکن ہے کہ اللہ تمہیں مالدار کر دے تو یہ قرض چکا دینا ‘‘۔بابا جی نے اپنی لرزتی ہوئی آواز میں کہا:’’ کیا میں ۸۶ برس کی عمر میں آکر اب حرام کھانا شروع کردوں‘ جبکہ میں نے پوری زندگی صبر وشکر میں گزاردی ہے ۔ اب تو یوں سمجھو کہ میں قبر میں پائوں لٹکائے بیٹھا ہوں ۔ مجھ سے یہ نہ ہو سکے گا۔‘‘ اس پر بیوی بھی خاموش ہو گئیابن جریر طبری کہتے ہیں میں یہ سب باتیں سن کر بہت حیران ہوا اور واپس حرم شریف آگیا ۔ اگلے دن جب سورج کچھ بلند ہوا تو وہ ہی کل والا خراسانی شخص اپنے گم شدہ مال کا اعلان کرنے لگا ۔ پھر وہ ہی بابا جی کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا :’’اے خراسانی بھائی! میں نے کل بھی آپ کو ایک مفید مشورہ دیا تھا اگر آپ ہزار دینار میں سے سو دینار نہیں دے سکتے تو دس دینار ہی دے دو تاکہ اگر کسی غریب‘ فقیر ‘ محتاج کو آپ کا مال ملا ہے تو اُس کا بھی کچھ بھلا ہو جائے ‘‘۔ابن جریر طبری کہتے ہیں کہ اس طرح دوسرا دن بھی بیت گیا اور خراسانی شخص کو اُس کا مال نہیں مل سکا ۔ جب تیسرے دن کی صبح ہوئی تو پھر وہ آکر اپنے گم شدہ مال کا اعلان کرنے لگا ۔ اب پھر وہ ہی بابا جی کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا :’’خراسانی بھائی! میں نے پرسوں آپ کو سو دینار انعام کا اعلان کرنے کا مشورہ دیا لیکن آپ نہیں مانے ۔ کل دس دینار کا مشورہ دیا ‘ اُس پر بھی آپ نے انکار کر دیا ۔ چلو! ایک دینار انعام کا ہی اعلان کر دو ، ممکن ہے کہ جس غریب کو مال ملا ہے ‘ اُس کے گھر میں کئی دن سے فاقہ ہو تو وہ ایک دینار سے اپنے اہل و عیال کیلئے کچھ کھانے کا ہی انتظام کر لے گا ‘‘۔خراسانی شخص نے پھر بڑی ہی تنگ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک دینار بھی دینے کیلئے تیار نہیں ہوں ۔ اپنا مال لوں گا تو پورا لوں گا ورنہ روزِ قیامت ہی فیصلہ ہو گا ۔جب بابا جی نے یہ سنا تو اُن کا پیمانۂ صبر لبریز ہو گیا اور اُس خراسانی شخص کا دامن اپنی طرف کھینچتے ہوئے کہا:’’میرے ساتھ آئو کہ میں تمہارا مال واپس کردوں ۔ اللہ کی قسم! جب سے یہ مال مجھے ملا ہے‘ میں ایک پل بھی سکون کی نیند نہیں سو سکا ہوں‘‘۔ابن جریر طبری کہتے ہیں کہ میں بھی چپکے سے ان کے پیچھے پیچھے چل دیا ۔ بابا جی اپنے گھر میں داخل ہوئے ۔ دینار لیے اور باہر نکل کر وہ سارے دینار اُس خراسانی شخص کو دیتے ہوئے کہا:’’اللہ تعالیٰ مجھے معاف کر دے اور اپنے فضل سے ہمیں رزق عطا فرمائے‘‘۔مجھے اُن کے پیچھے گھر سے رونے اور سسکیوں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی کہ سب کئی دن فاقے سے تھے ۔ اُس خراسانی شخص نے تسلی سے اپنے دینار گنے اور روانہ ہو گیا ۔ ابھی وہ تھوڑا ہی آگے گیا تھا کہ اچانک مڑا اور اُن بابا جی کی کنیت سے اُنہیں مخاطب کر کے کہنے لگا:’’اے ابو غیاث! میرے والد کا انتقال ہوا تو انہوں نے اپنی میراث میں تین ہزار دینار چھوڑے تھے اور وصیت کی تھی کہ شرعی طریقے پر اس کا تیسرا حصہ یعنی ہزار دینار فقراء و مساکین پر صدقہ کر دئیے جائیں اور میں مکہ مکرمہ سے یہ مال اسی نیت سے لایا تھا کہ کسی فقیر اور محتاج کو دے کر اپنے لیے اور اپنے مرحوم والد کیلئے دعا کروائوں گا ۔ مجھے اس سفر میں آپ سے زیادہ سفید پوش کوئی نظر نہیں آیا ‘ اس لیے یہ مال رکھ لو اور اپنی ضروریات میں خرچ کرو‘‘۔یہ سن کر ابو غیاث کی آنکھوں سے تشکر بھرے آنسو رواںہو گئے اور انہوں نے خراسانی شخص اور اس کے والد ِ مرحوم کو خوب دعائیں دیں ۔ پھر جب وہ خراسانی شخص وہاں سے جانے لگا میں بھی واپس ہونے کیلئے مڑا تو پیچھے انہی بابا جی ’’ابو غیاث‘‘ کی آواز سنائی دی :’’ بیٹا ! رک جائو ۔ میں پہلے دن سے دیکھ رہا ہوں کہ تم میرا پیچھا کر رہے ہو اور پورے معاملے سے باخبر ہو ۔ میںنے اپنے شیخ احمد بن یونس یربوعیؒ سے اور انہوں نے امام مالکؒ سے اور امام مالکؒ نے حضرت نافع ؒ سے سنا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بتاتے تھے کہ جنابِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کو فرمایا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی ہدیہ (تحفہ) بغیر مانگے اور بغیر نفس کے انتظار کے دے دے تو اُسے قبول کر لینا اور رد نہ کرنا‘‘۔پھر انہوں نے گھر کے نو افراد کیلئے سو ‘سو دینار الگ کیے اور پورا دسواں حصہ یعنی سو دینار مجھے عنایت کیے اور مجھے ساتھ ہی کہا کہ یہ حلال مال ہے ‘ اسے احتیاط سے خرچ کرنا ۔ابن جریر طبری کہتے ہیں میں وہ ہی سو دینار دو سال تک خرچ کرتا رہا اور خوب علم حاصل کیا ۔اللہ کریم ہم سب کو اپنے لطف و احسان سے اس کا یقین عطا فرما دے کہ جو رزق ہمارے نصیب میں لکھا ہے‘ وہ ہمیں ضرور ملے گا چاہے وہ کہیں بھی ہو اور جو رزق ہمارے حصہ کا نہیں ہے‘ وہ ہمارے کام نہیں آئے گا ‘ خواہ ہمارے ہاتھ میں ہی کیوں نہ ہو۔ بس رزقِ حلال کے اہتمام اور حرام روزی سے بچنے کی یہی کنجی ہے ۔ باقی رزقِ حلال کیلئے محنت ‘ مسنون دعائوں اور مقبول وظائف بھی بندے کو اللہ تعالیٰ سے جوڑنے کے ذرائع اور بہانے ہیں..!!

Wednesday, April 25, 2018

فرعون کی بیٹی کی کنگھی کرنے والی

حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ اسراء کی رات ایک مقام سے مجھے نہایت ہی اعلیٰ خوشبو کی مہک آنے لگی. میں نے کہا اے جبریل ! یہ کیسی اچھی خوشبو ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ فرعون کی بیٹی کی کنگھی کرنے والی (خادمہ) اور اُس کی اَولاد کی ہے‘ اس کی شان پوچھی گئی توعرض کیا‘فرعون کی بیٹی کو کنگھی کرتے ہوئے اس مومنہ خاتون کے ہاتھ سے اتفاقاً کنگھی گر پڑی تو اس کی زبان سے بے ساختہ بسم اللہ نکل گیا.
فرعون کی بیٹی نے کہا اللہ تو میرا باپ ہے. اُس (خادمہ) نے جواب دیا کہ نہیں، میرا اور تیرے باپ کاپروردگار اللہ ہے.
فرعون کی بیٹی نے کہا کہ میں اس کی خبر اپنے باپ کو دے دوں گی تو اس نے کہی کوئی حرج نہیں.پس اُس نے اپنے باپ کو ساری بات سُنائی. فرعون نے اُس (خادمہ) کو بلوایا اور کہا کیا تم میرے سوا کسی اور کو ربّ مانتی ہو. کہا ہاں میرا اور تیرا پروردگار اللہ ہے. فرعون نے اُسی وقت حکم دیا کہ تانبے کی گائے کو آگ میں تپایا جائے‘ جب وہ بالکل آگ جیسی ہو جائے تو پھر اِسے اور اِس کے بچوں کو ایک ایک کر کے اُس میں ڈال دیا جائے. اُس مومنہ عورت نے فرعون سے کہا میری ایک درخواست ہے اُس نے کہا کیا ہے؟ اُس نے کہا میری اور میرے بچوں کی ہڈیاں ایک کپڑے میں جمع کرکے دفن کردینا . فرعون نے کہا اَچھا تیرے کچھ حقوق ہمارے ذمہ ہیں اِس لئے یہ منظور ہے.بعد ازیں فرعون نے حکم دیا کہ ایک ایک کر کے اِس کے بچوں کو آگ


کی طرح تپتی ہوئی آگ میں ڈال دو. جب دُودھ پیتے بچے کی باری آئی (فرعون کے سپاہیوں نے جب اُس بچے کو چھینا) تو وہ گھبرائی( تو اللہ تعالیٰ نے دُودھ پیتے بچے کو گویائی عطا فرمائی). اُس نے (اپنی ماں سے) کہا امی جان اَفسوس نہ کریں بلکہ (آگ میں) ڈال دیں کیونکہ دنیا کا عذاب ،آخرت کےعذاب سے بہت ہلکا ہے، تب (ماں نے بچے کوآگ میں) ڈال دی .ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ چارچھوٹے بچوں نے بات کی وہ یہ ہیں. (1)عیسی بن مریم علیہ السلام (2)صاحب جریج (3)یوسف کی گواہی دینے والا . (44)فرعون کی بیٹی کی مشاطہ کا بیٹا
.

عالمہ سے شادی اور پھر کیا ہوا؟

ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﻟﯽ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﻮ ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﻟﻤﮧ ﮬﻮﮞ ﺍﺳﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺴﺮ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ – ﻭﮦ ﺁﺩﻣﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ہوﺍ ﮐﮧ ﭼﻠﻮ ﺍﭼﮭﺎ ہوﺍ ﮐﮧ ﺑﯿﮕﻢ ﮐﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﻮ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮔﺰﺭﮮ ﮔﯽﻟﯿﮑﻦ کچھ ﺩﻧﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮑﻮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺩﯾﮑﮭﻮ ہم ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﻧﮯ ﮐﺎ ﻋﮩﺪ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻮﯼ ﭘﺮ ﺳﺴﺮ ﻭ ﺳﺎﺱ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻭﺍﺟﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﻧﮯ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﮬﮯ ﻟﮩﺬﺍ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮔﮭﺮ ﻟﮯ ﻟﻮ – ﻭﮦ ﺁﺩﻣﯽ ﺑﮍﺍ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ہوا ﮐﮧ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮔﮭﺮ ﻟﯿﻨﺎ ﺗﻮ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﺑﻨﮯ ﮔﺎ؟
ﺍﺱ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﻔﺘﯽ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ مدد ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻣﻔﺘﯽ ﺻﺎﺣﺐ کچھ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﻭ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﻨﺲ ﮔﯿﺎ ﮬﻮﮞ – ﻣﻔﺘﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﻭﮦ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﺮﺗﯽ ہے – ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺱ مسئلہ ﮐﮯ ﺣﻞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁﯾﺎ ہوﮞ ﻓﺘﻮﯼ ﻟﯿﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ – ﻣﻔﺘﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﺕ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﭨﮭﯿﮏ ﮬﮯ ﻟﯿﮑﻦ
ﺍﺳﮑﻮ ﻗﺎﺑﻮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮨﮯ . ﻭﮦ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺟﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﮐﮧ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﯽ ﺭﻭ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮬﻮﮞ ﻟﮩﺬﺍ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﺭہا ہوﮞ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﺭﮨﯿﮕﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﯾﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮔﮭﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﮬﻮﮞ ﺁﭖ ﻭﮨﺎﮞ ﺭہیں ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﺩﮬﺮ ﺭہے گی – ﺑﯿﻮﯼ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﺳﭩﻤﭩﺎ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﯽ ﭼﻠﻮ ﺩﻓﻌﮧ ﮐﺮﻭ ﺩﻭﺳﺮﯼﺷﺎﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﺩﮬﺮ ہی ﺭہوﻧﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﺮﻭﻧﮕﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﮐﺮﺍﻡ ﻣﺴﻠﻢ ﮬﮯ.

Monday, April 23, 2018

حضرت عمرفاروق ؓ کی نرم دلی

ایک فقیر مدینہ منورہ کی ایک تنگ و تاریک گلی میں فرش پر بیٹھا ہوا تھا‘ اتفاق سے امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ اس طرف گزرے اور بے خیالی میں آپؓ کا پاؤں فقیر کے پاؤں پر پڑ گیا‘ فقیر درد سے چلا اٹھا اور ناراض ہو کر بولا ’’اے شخص! کیا تجھے دکھائی نہیں دیتا‘‘ امیر المومنین نے اس شخص پر غصہ کرنے کی بجائے کمال رحم دلی سے جواب دیا ’’بھائی معاف کرنا! میں اندھا تو ہرگز نہیں ہوں البتہ مجھ سے قصور ضرور سرزد ہوا ہے
‘اس کیلئے خدا کے واسطے مجھے معاف کر دو‘‘ .یہ حکایت بیان کرتے ہوئے شیخ سعدیؒ بطور خاص فرماتے ہیں سبحان تیری قدرت! ہمارے اکابرین کا اخلاق کس قدر پاکیزہ تھا کہ مقابلے میں کوئی کمزور ہوتا تو لہجے میں اتنی ہی شفقت اور نرمی آ جاتی تھی.

اس بات سےیہ ثابت بات سےیہ ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص صحیح معنوں میں عالی مرتبت کہلانے کے لائق ہے اسے غریبوں کا ہمدرد اور غمگسار ہونا چاہیےاس شخص کی مثال تو اس درخت جیسی ہے جس پر جب پھل آنا شروع ہوتے ہیں تو وہ عاجزہو کر زمین کی طرف مزید جھکتا چلا جاتا ہے‘
ہ انسان خوش نصیب ہے جوان حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے غریب اور بے نواؤں کی دلجوئی کرتا رہتا ہے تا کہ اگلے جہاں میں جنت کے اعلیٰ درجات پر فائز ہو سکے جبکہ دوسری طرف متکبر لوگوں کے نصیب میں شرمندگی کے علاوہ کچھ نہیں بچتا


دل کی بیماری کا پائوں کے انگوٹھے سے پتا چلائیں


یہ تو آپ سب جانتے ہی ہوں گے کہ عمر گزرنے کے ساتھ ہماری شریانوں میں تناؤ آتا جاتا ہے اور اگریہ تناؤ بڑھتا رہے تو دل کی بیماریوں کے امکانات بڑھنے لگتے ہیں۔Heart and Circulatory Physiologyمیں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ آپ گھر بیٹھے ہی اس بات کا پتا لگاسکتے ہیں کہ آ پ کادل کیسے کام کررہا ہے اور آپ کودل کی بیماری لاحق ہوئی ہے یا نہیں۔
آپ کو چاہیے کہ زمین پر چِت بیٹھ جائیں اور اپنے ہاتھوں سے پاؤں کے انگوٹھے کو ہاتھ لگائیں،اگر آپ کا ہاتھ پاؤں کے انگوٹھے کو چھوئے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کا دل اور شریانیں بہتر طریقے سے کام کررہے ہیں۔
یونیورسٹی آف نارتھ ٹیکساس اور جاپانی یونیورسٹیوں کے اشتراک سے کی گئی تحقیق میں 20سے83سال کے درمیان 526لوگوں کا مطالعہ کیا گیا۔تحقیق کاروں نے ان لوگوں کو دو گروہوں میں تقسیم کرتے ہوئے یہ دیکھا کہ کن لوگوں کی شریانوں میں لچک ہے اور کن لوگوں کی شریانوں میں کھچاؤ ہے۔
تحقیق کار کینٹا یاماموٹا کا کہنا ہے کہ کھلی شریانوں کی وجہ سے خون بآسانی گردش کرپاتا ہے اور اگر شریانیں تنگ ہوں گی تو خون صحیح طرح گردش نہیں کرپائے گا۔اس کا کہنا تھا کہ اگر شریانیں تنگ ہوں اور آپ کو کھچاؤ محسوس ہوتو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کو ہارٹ اٹیک ہوگا لیکن دل کی بیماری لاحق ہونے کو رد نہیں کیا جاسکتا۔
اس کا کہنا ہے کہ عمر ڈھلنے کے ساتھ شریانوں میں تناؤ آجاتا ہے لہذا ضروری ہے کہ احتیاط برتی جائے۔اگر شریانوں میں تناؤ کم ہوگا تو دل کی بیماری کے امکانات بھی کم ہوں گے اور آپ ایک صحت مندزندگی گزار سکیں گے۔

واٹس ایپ کے کچھ ایسے حیرت انگیز پوشیدہ ٹِرکس جن کے بارے میں آپ آج سے پہلے نہیں جانتے ہونگے ۔۔ انہیں جان کر آپ کو فائدہ ضرور ہوگا


لاہور(ویب ڈیسک) تاہم بہت کم افراد اس ایپ میں موجود پوشیدہ ٹرکس کو جانتے ہیں جو اس کے استعمال کو مزید دلچسپ بنا دیتی ہیں۔ یہاں ہم آپ کو ایسی ہی چھ دلچسپ ٹرکس کے بارے میں بتا رہے ہیں۔
میسج ڈیلیٹ کرنے کا آپشن
واٹس ایپ کی حالیہ اپ ڈیٹ کے بعد اب پیغامات کو بھیجنے کے بعد ڈیلیٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس فیچر کو پیغام بھیجنے کے سات منٹ کے اندر ہی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بلیو ٹک سے بچیں اگر آپ اپنے کسی دوست کو یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتے

کہ آپ اُس کا بھیجا ہوا پیغام پڑھ چکے ہیں تو اس کے لیے اُس کا بھیجا ہوا پیغام ائیرپلین موڈ آن کر کے پڑھیں۔ اس طرح سے اُسے اپنے بھیجے ہوئے پیغام کے ساتھ نیلا ٹِک نہیں نظر آئے گا۔

واٹس ایپ ڈیٹا کا کم استعمال
واٹس ایپ میں موجود ڈیٹا یوزج مینیو کی مدد سے موبائل ڈیٹا کے زیادہ استعمال کو روکا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے تصاویر، آڈیو، ویڈیو اور دستاویزات کا آٹو ڈائون لوڈ کا آپشن وائی فائی سے کنکٹ کریں۔

اپنی مرضی کے نوٹیفکیشن
واٹس ایپ میں نوٹیفکیشنز کو کسٹمائز بھی کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کسی خاص انسان کے پیغام کا انتظار کر رہے ہیں تو اُس کی چیٹ کھولیں، اُس کے نام پر انگلی سے چھوئیں، اُس کے بعد کسٹم نوٹیفکیشنز کے ذریعے اپنی مرضی کی سیٹنگز لگا لیں۔

گفتگو کو اَن ریڈ کریں
اگر آپ کسی کے پیغامات کا جواب فراغت میں دینا چاہتے ہیں تو اس کی گفتگو پر کچھ لمحوں تک انگوٹھا دبائے رکھیں، کچھ آپشنز ظاہر ہوں گی، اُن میں سے مارک اِٹ اَن ریڈ کا انتخاب کریں۔ اس طرح آپ کو وہ گفتگو اِن ریڈ نظر آئے گی۔


گفتگو ای میل کریںواٹس ایپ میں کسی گفتگو کو ای میل بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے گفتگو کھولیں۔ مور کو چھوئیں اور ای میل کنورزیشن کی آپشن کے ذریعے تمام گفتگو کو ای میل کر لیں۔

Sunday, April 22, 2018

اماں محبت کیا ہوتی ہے؟


ایک طوائف کی بیٹی جوان ہوئی تو ایک دن اپنی ماں سے پوچھنے لگی کہ ’’اماں محبت کیا ہوتی ہے؟؟؟‘‘ طوائف جل کر بولی’’ ہونہہ مفت عیاشی کے بہانے‘‘۔ہمارے ہاں زیادہ تر محبت کی شادیاں‘ نفر ت کی طلاقوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں
لیکن پھر بھی دھڑا دھڑ محبتیں اور ٹھکا ٹھک طلاقیں جاری ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ محبت سے نفرت کا سفر ایک شادی کی مار ہے۔کتنی عجیب بات ہے کہ لڑکا لڑکی اگر ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو جائیں
تو ان کی محبت بڑھنے کی بجائے دن بدن کم ہوتی چلی جاتی ہے؟ ایک دوسرے سے اکتاہٹ محسوس ہونے لگتی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ محبت کا آغاز خوبصورت اور انجام بھیانک نکلتا ہے؟؟؟ آخرایک دوسرے کی خاطر مرنے کے دعوے کرنے والے ایک دوسرے کو مارنے پر کیوں تل جاتے ہیں؟
وجہ بہت آسان ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلبل کا بچہ کھچڑی بھی کھاتا تھا‘ پانی بھی پیتا تھا‘ گانے بھی گاتا تھا‘ لیکن جب اسے اڑایا تو پھر واپس نہ آیا۔ اس لیے کہ محبت آزادی سے ہوتی ہے
‘ قید سے نہیں۔ ہمارے ہاں الٹ حساب ہے‘ جونہی کسی لڑکے کو کسی لڑکی سے محبت ہوتی ہے‘ ساتھ ہی ایک عجیب قسم کی قید شروع ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
لڑکیوں کی فرمائشیں کچھ یوں ہوتی ہیں’’شکیل اب تم نے روز مجھے رات آٹھ بجے چاند کی طرف دیکھ کر آئی لو یو کا میسج کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب ہم چونکہ ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے
ہیں لہذا ہر بات میں مجھ سے مشورہ کرنا ۔۔۔۔۔۔۔روز انہ کم ازکم پانچ منٹ کے لیے فون ضرور کرنا۔۔۔۔۔۔۔میں مسڈ کال دوں تو فوراً مجھے کال بیک کرنا۔۔۔۔۔۔۔فیس بک پر روز مجھے کوئی رومانٹک سا میسج ضرور بھیجنا۔۔۔۔۔۔۔
لڑکوں کی فرمائشیں کچھ یوں ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔جان! اب تم نے اپنے کسی Male کزن سے بات نہیں کرنی۔۔۔۔۔۔۔کپڑے خریدتے وقت صرف میری مرضی کا کلر خریدنا۔۔۔
۔۔۔۔وعدہ کرو کہ بے شک تمہارے گھر میں آگ ہی کیوں نہ لگی ہو‘ تم میرے میسج کا جواب ضرور دو گی۔۔۔۔۔۔۔جان شاپنگ کے لیے زیادہ باہر نہ نکلاکرو‘ مجھے اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔۔۔‘‘
محبت کے ابتدائی دنوں میں یہ قید بھی بڑی خمار آلود لگتی ہے‘ لیکن جوں جوں دن گذرتے جاتے ہیں دونوں طرف کی فرمائشیں بڑھتے بڑھتے پہلے ڈیوٹی بنتی ہیں پھر ضد اور پھر انا کا روپ دھار لیتی ہیں
اور پھر نفرت میں ڈھلنے لگتی ہیں۔ اسی دوران اگر لڑکے لڑکی کی شادی ہوجائے تو رہی سہی کسر بھی پوری ہو جاتی ہے۔ میری ذاتی رائے میں محبت آسانیاں پیدا کرنے کا نام ہے‘ لیکن ہم لوگ اسے مشکلات کا گڑھ بنا دیتے ہیں۔
غور کیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں جن سے محبت ہوتی ہے ہم جگہ جگہ ان کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں‘ ہم اپنے بچے کے بہتر مستقبل کے لیے اپنا پیٹ کاٹ کر اس کی فیس دیتے ہیں‘ خود بھوکے بھی رہنا پڑے
تو اولاد کے لیے کھانا ضرور لے آتے ہیں‘ لائٹ چلی جائے تو آدھی رات کو اپنی نیند برباد کرکے‘ ہاتھ والا پنکھا پکڑ کر بچوں کو ہوا دینے لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔ہم بے شک جتنے مرضی ایماندار ہوں لیکن اپنے
بچے کی سفارش کرنی پڑے تو سارے اصول بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔یہ ساری آسانیاں ہوتی ہیں جو ہم اپنی فیملی کو دے رہے ہوتے ہیں کیونکہ ہمیں اُن سے محبت ہوتی ہے۔
اسی طر ح جب لڑکے لڑکی کی محبت شروع ہوتی ہے تو ابتداء آسانیوں سے ہی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔اور یہی آسانیاں محبت پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں‘ لیکن آسانیاں جب مشکلات اور ڈیوٹی بننا شروع ہوتی ہیں
تو محبت ایک جنگلے کی صورت اختیار کرنے لگتی ہے‘ محبت میں ڈیوٹی نہیں دی جاسکتی لیکن ہمارے ہاں محبت ایک فل ٹائم ڈیوٹی بن جاتی ہے‘ ٹائم پہ میسج کا جواب نہ آنا‘ کسی کا فون اٹینڈ نہ کرنا‘ زیادہ دنوں تک ملاقات نہ ہونا ۔۔۔۔۔۔۔
ان میں سے کوئی بھی ایک بات ہو جائے تو محبت کرنے والے شکایتی جملوں کا تبادلہ کرتے کرتے زہریلے جملوں پر اُتر آتے ہیں اور یہیں سے واپسی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔
جب کوئی کسی کے لیے آسانی پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تو محبت بھی اپنا دامن سکیڑنے لگتی ہے‘ میں نے کہا ناں۔۔۔۔۔۔محبت نام ہی آسانیاں پیدا کرنے کا ہے ‘ ہم اپنے جن دوستوں سے محبت کرتے ہیں
ان کے لیے بھی آسانیاں پیدا کرتے ہیں‘‘ اللہ تعالیٰ بھی چونکہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے‘ اس لیے ان کے لیے جا بجا آسانیاں پیدا کرتا ہے۔
مجھے محبت میں گرفتار ہونے والے بالکل بھی پسند نہیں‘ محبت گرفتاری نہیں رہائی ہے۔۔۔۔۔۔ٹینشن سے رہائی۔۔۔۔۔۔تنہائی سے رہائی۔۔۔۔۔۔مایوسی سے رہائی۔ لیکن ہمارے معاشرے میں محبت ہوتے ہی ٹینشن ڈبل ہو جاتی ہے
اور دونوں پارٹیاں ذہنی مریض بن کر رہ جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محبت شروع تو ہو جاتی ہے لیکن پوری طرح پروان نہیں چڑھ پاتی۔ لیکن جہاں محبت اصلی محبت کی شکل میں ہوتی ہے وہاں نہ صرف پروان چڑھتی ہے
بلکہ دن دوگنی اور’’رات‘‘ چوگنی ترقی بھی کرتی ہے۔
ہمارا المیہ ہے کہ ہمارے ہاں محبت سے مراد صرف جنسی تعلق لیا جاتا ہے‘ یہ محبت کا ایک جزو تو ہوسکتا ہے لیکن پوری محبت اس کے گرد نہیں گھومتی‘ بالکل ایسے جیسے کسی اسلم کا ایک ہاتھ کاٹ کر الگ کر دیا جائے
تو اُس کٹے ہوئے ہاتھ کو کوئی بھی اسلم نہیں کہے گا‘ اسلم وہی کہلائے گا جو جڑے ہوئے اعضاء رکھتا ہوگا۔ ویسے بھی یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ساری محبت کا انحصار چند لمحوں کی رفاقت کو قرار دے دیا جائے۔محبت زندان نہیں ہوتی‘ حوالات نہیں ہوتی‘ جیل نہیں ہوتی‘ بند کمرہ نہیں ہوتی‘ کال کوٹھڑی نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔محبت تو تاحد نظر ایک کھلا میدان ہوتی ہے جہاں کوئی جنگلے‘ کوئی خاردار تاریں اور کوئی بلند دیواریں نہیں ہوتیں۔ آپ تحقیق کر کے دیکھ لیجئے‘ جہاں محبت ناکام ہوئی ہوگی وہاں وجوہات یہی مسائل بنے ہوں گے۔ ہر کوئی اپنی محبت جتلاتا ہے اور دوسرے کو بار بار یہ طعنے مارتا ہے کہ تمہیں مجھ سے محبت نہیں۔
لوگ کہتے ہیں کہ محبت کی نہیں جاتی‘ ہو جاتی ہے۔ غلط ہے۔۔۔۔۔۔۔محبت کی ایک چھوٹی سی کونپل دل میں از خود ضرور پھوٹتی ہے لیکن اسے تناور درخت بنانے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ وہ محبت کبھی کامیاب نہیں
ہو سکتی جہاں شکوے ‘شکایتیں اور طعنے شامل ہو جائیں۔ ایسے لوگ بدقسمت ہیں جو محبت کرنا نہیں جانتے لیکن محبت کر بیٹھتے ہیں اور پھر دوسرے کو اتنا بددل کر دیتے ہیں کہ وہ محبت سے ہی انکاری ہو جاتا ہے۔
کیا وجہ ہے کہ محبت کی شادی کرنے والے اکثر جوڑوں کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد اس رستے پر نہ چلے۔ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہم میں سے اکثر نے صرف محبت کا نام سنا ہے‘ اس کے تقاضوں سے واقف نہیں۔
ہمیں کوئی پسند آجائے تو ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں اس سے محبت ہو گئی ہے۔ پسند آنے اور محبت ہونے میں بڑا فرق ہے‘ کسی کو پسند کرنا محبت نہیں ہوتا لیکن محبت تک پہنچنے کے لیے پہلا زینہ ضرور ہوتا ہے۔
میں نے بے شمار لوگوں کو انا کے خول میں لپٹے محبت کرتے دیکھا ہے‘ یہ محبت میں بھی اپنی برتری چاہتے ہیں‘ ان کے نزدیک محبت میں بھی سٹیٹس ہوتا ہے‘
حالانکہ محبت میں تو محمود و ایاز کی طرح ایک ہونا پڑتا ہے‘ رہ گئی بات انا کی ‘ تو یہ وقتی سکون تو دے دیتی ہے لیکن اِس کمبخت کے سائڈ ایفیکٹس بہت ہیں!!
انا کی جنگ میں ہم جیت تو گئے لیکن
پھر اُس کے بعد بہت دیر تک نڈھال رہے
میں نے اسے کیوں ڈانٹ دیا؟
کرن اپنا کچن کا کام ختم کر کے ابھی ابھی فارغ ہوئی تھی اور اب وہ سوچ ہی رہی تھی کہ جا کر باہر سے کپڑے اتار کر لے آئے کیونکہ وہ اب تک سوکھ چکے ہوں گے کہ اس کا بیٹا عادل بھاگتا ہوا آیا اور بولا:
ماما ۔۔۔ماما۔۔۔احمد نے پھر سے ایک بونگی ماری ہے۔ اس کا ماں بہت تھکی ہوئی تھی اور بالکل کسی قسم کے مزاق کے موڈ میں نہ تھی۔ کرن نے غصے سے عادل کو گھورا۔ عادل کو اپنی ماں کے غصے سے بہت ڈر لگتا تھا
وہ ایک دم سہم گیا اور واپس چلا گیا۔ کمرے میں گیا تو دیکھا کہ احمد صاحب اپنے مارکر پکڑ کر دیوار پر تصاویر اور نئے نئے نقشے بنانے میں مشغول تھے۔
عادل سے نہ رہا گیا اور وہ جانتا تھا کہ اگر ابھی جا کر کرن کو نہ بتایا تو پورے گھر کی دیواروں پر صرف نقشے ہی نقشے نظر آنے والے تھے۔
وہ بھاگا ہوا دوبارہ اپنی ماں کی طرف گیا، دیکھا تو کرن باہر سے کپڑے اتار کر ٹوکری میں ڈال رہی تھی۔ وہ آرام سے گیا اور جا کر ماں کو بتایا کہ ماما پلیز میں مزاق نہیں کر رہا احمد نے ساری دیوار پر رنگ ہی
رنگ لگا دیے ہیں۔ آپ خود جا کر دیکھ لیں۔ کرن طیش میں آگئی اورزور سے چیخی: احمد۔۔احمد!۔۔۔احمد نے جیسے ہی اپنی ماں کی آواز سنی تو ایک چھلانگ لگائی اور جا کر الماری میں چھپ گیا
۔ وہ اپنی ماں کی اس آواز سے بخوبی واقف تھا اور اسے معلوم تھا کہ ابھی ایک نہ تھمنے والا طوفان اس کی طرف بڑھ رہا ہے ۔کرن کمرے میں آئی
اور ادھر ادھر اس کو تلاش کرنے لگی۔ اتنے میں اس کی نظر الماری پر پڑی جو کھلی تھی اور وہ سمجھ گئی کہ اس کا تین سال کا بیٹا کدھر چھپ کر بیٹھا ہے۔
وہ الماری کے پاس گئی اور احمد کو اس کے کان سے پکڑ کر باہر نکال لیا۔ پھر شدید غصے میں اس بیچارے کو دو تین منٹ تک اول فول سناتی رہی۔ وہ بیچارہ بالکل چپ کر کے اپنی ماں کی ڈانٹ سنتا رہا اور عادل دروازے کے پیچھے
سے اس کو منہ چڑاتا رہا۔ جب کرن کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا تو وہ واپس باہر گئی اور جا کر باقی کپڑے سمیٹنے لگ گئی۔ اتنے میں اسے خیال آیا کہ جا کر ایک سپنج سے گھر کی دیوار بھی صاف کر دے جس پر احمد نے اللہ جانے
اب کونسے ملک کا نقشہ کھینچا تھا۔ وہ اندر گئی تو دیکھا کہ دیوار پر احمد نے لکھا ہوا تھا کہ آئی لو مائی ماما۔۔۔اور اس کے گرد دل کی شکل کا ہالہ بنایا ہوا تھا۔ اس کی ماں نے دیکھا تو اس کا دل پگھل گیا۔ وہ احمد کے کمرے میں گئ
ی تو دیکھا کہ وہ بیچارہ ڈانٹ کھا کر سو گیا تھا، اس نے پیار سے احمد کو کس کیا اور کچھ پیسے اٹھا کر پرس میں رکھے اور بازار کا رخ کیا
۔ بازار جا کر اس نے ایک بہت خوبصورت سا فریم خریدا اور گھر آگئی۔ اس نے یہ خالی فریم احمد کی ڈرائنگ کے گرد لٹکا دیا اور وہ ایک بہت پیاری سی تصویر دکھنے لگی
احمد سو کر اٹھا تو دیکھا کہ ماما بیڈ پر بیٹھی تھیں۔ وہ پریشان ہو گیا کہ شاید ابھی اور ڈانٹ پڑنے والی ہے۔ کرن نے اسے پھر سے کس کیا اور بولی، میری جان ادھر آؤ، اس کو عادل کے کمرے میں اسی دیوار کے پاس لے گئ
ی اور فریم میں اسکی ڈرائنگ دکھائی۔ احمد نے دیکھا تو بہت خوش ہوا ۔ ہم اپنی تھکان میں اکثر بچوں کوڈانٹ دیتے ہیں لیکن ہمیں اس بات کا خاص خیال کرنا چاہیے کہ بچوں کی حوصلہ افزائی ان کو بہت خود اعتمادی دیتی ہے اور ان کی کامیابی کا راز ہوتی ہے۔

جب حضوراکرمﷺکی سواری مبارک جنت کے دروازے پر پہنچی تو آپ ؐ نے جنت کے دروازے پر کیا لکھا ہوا دیکھا؟

جب حضورکریم ؐ کی سواری جنت کے دروازے پر پہنچی تو انہوں نے جنت کے دوروازے پر لکھا ہوا دیکھا(1) خیرات کا دس گناہ ثواب ہے 2 قرض بے سود دینے کا اٹھارا گناثواب ہے ۔
حضرت صلی ا ﷲ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ جبرئیل اسکا کیا مطلب ہے ‘ جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا سائل تو کبھی بلا ضرورت بھی مانگتا ہے اور دینے والا دیتا بھی ہے ‘برخلاف اس کے سخت ضرورت والا ہی قرض مانگتا ہے
‘ خیرات مانگنے والے کو عادت ہوتی ہے ‘ قرض مانگنے والے کو عادت نہیں ہوتی ‘ شرم سے کٹا جاتا ہے ‘ ان وجوہات کی وجہ سے قرض دینے کا بڑا ثواب ہے ۔ جس وقت حضور صلی ا ﷲ علیہ وسلم جنت کے دروازہ پر پہنچتے اس وقت کی پوری کیفیت کو ئی کیا بیان کر
سکتا ہے البتہ کسی شاعر نے اس کیفیت کو کسی قدر یوں ظاہر کیا ہے ۔ پہنچے جس دم فردوس پر شاہ عالم ۔۔۔ چلی جنت کی ہوا لینے کو سرور کے قدم نوبت آمد کی بجانے لگے غنچے پیہم۔۔۔ بلبلیں گانے لگیں نعت کے نغموں کو بہم پہنچا رضوان
تو گلدستئہ جنت لے کر۔۔۔ اور ادریس بڑھے نور کا خلعت لے کر جب حضرت صلی ا ﷲ علیہ وسلم دروازہ سے گذرنے لگے تو فرشتہ نور کا طبق بھر بھر کے سر پر سے نثار کرنے لگے
 جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا یا رسول ا ﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم جب سے جنت بنی ہے ‘ اس وقت سے یہ فرشتے اس لئے مقرر ہیں کہ قیامت کے دن آپ اور آپ کی امت یہاں سے گذرے تو اسی طرح طبق نثار کریں.

جس شخص میں‌یہ چار خوبیاں ہونگی وہی میرا جنازہ پڑھائے گا

واجہ بختیار الدین کاکی کا شمار ان لوگوں‌میں‌ہوتا ہے جو کہ اللہ کے ولیوں میں‌ہوتے ہیں‌اور ان کے ہاتھوں‌ہزاروں لوگوں‌نے اسلام قبول کرلیا جس زمانہ میں‌ان کی وفات ہوئی اس وقت کا بادشاہ شمس الدین التمش تھا
. آپ کے جانزہ میں اتنے لوگ جمع ہوئے جنازہ گا ہ میں‌لوگوں کی مزید سمانے کی گنجائش ہی ختم ہو گئی . ایسا لگ رہا تھا کہ سارا شہر امڈ آیا ہے
. اور ایسے لوگ بھی نظر آرہے تھے جن کا تعلق اس شہر سے نہیں‌تھا . مرد بوڑھے جوان سب ہی ان کی جنازہ میں‌شرکت کے لئے نکل آئے تھے . جب جنازہ رکھا گیا تو ایک شخص‌آگے آیا اور چلا کر کہنے لگا
یں‌اس میت کا وصی ہوں . خواجہ قطبا لدین بختیار کاکیؒ نے یہ وصیت کی کہ میرا جنازہ وہ شخص پڑھائے جس کے اندر چار خوبیاں ہوں۔ پہلی خوبی یہ ہے کہ زندگی میں اس کی تکبیر اولیٰ کبھی قضا نہ ہوئی ہ
و اور دوسری شرط اس کی تہجد کی نماز کبھی قضا نہ ہوئی ہو، تیسرا بات یہ ہے کہ اس نے غیر محرم پر کبھی بھی بری نظر نہ ڈالی ہو، چوتھی بات یہ ہے کہ اتنا عبادت گزار ہو حتیٰ کہ اس نے عصر کی سنتیں بھی کبھی
نہ چھوڑی ہوں۔ جس شخص میں چار خوبیاں ہوں وہ میرا جنازہ پڑھائے، جب یہ بات کی گئی تو مجمع کو سانپ سونگھ گیا۔ سناٹا چھا گیا لوگوں کے سر جھک گئے۔
کون ہے جو قدم آگے بڑھائے، کافی دیر ہو گئی حتیٰ کہ ایک شخص روتا ہوا آگے بڑھا۔ حضرت قطب الدین بختیار کاکیؒ کے جنازے کے قریب آیا۔ جنازے سے چادر
ہٹائی اور کہا قطب الدین آپ خود تو فوت ہو گئے مجھے رسوا کر دیا۔ اس کے بعد بھرے مجمع کے سامنے اللہ کو حاضر و ناظر جان کر قسم اٹھائی میرے اندر یہ چاروں خوبیاں موجود ہیں لوگوں نے دیکھا یہ وقت کا بادشاہ شمس الدین التمش تھا
 یہ اس زمانہ کے بادشاہ تھے جن کے لئے بزرگ بھی دعا کیا کرتے تھے . کہ یا اللہ یہ لوگ ہماری جنازہ پڑھائے . اور آج ہمارے بادشاہ اور وزیر ہے جن کا انگ انگ حرام میں‌جکڑا ہوا ہے . اس کے لئے کون دعا گوں ہوگا

صدام حسین کی زندگی کا ایک بہترین واقعہ



صدر صدام حسین ایک دفعہ رات کو عراق کی سرحدوں پر گشت کر رہے تھے تو بہت دور ایک بستی نظر آئی صدام نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اس بستی میں چلتے ہیں لوگوں کی خبر گیری لیتے ہیں تو ساتھیوں نے منع کیا کہ رات کافی ہو چکی ہے صدام نے پھر اصرار کیا تو چلے گئے۔
بستی میں پہنچے تو ایک گھر میں دستک دی تو ایک بندہ آیا صدام کو دیکھتے ہی حیران ہو گیا صدام کے ہاتھ چومنے لگا خوشی کے مارے آنکھوں میں آنسو آ گ
یوں ایک گھر سے محلہ اور بات پورے علاقے میں پہنچ گئی پورا علاقہ جمع ہو گیا لوگ صدام حسین کا مصافحہ کرتے اور خوشی سے جھوم جاتے ۔۔
صدام نے کہا کہ آپ کو کوئی تکلیف تو لوگوں نے کہا کہ بہت خوش ہیں کسی قسم کی تکلیف نہیں صدام نے کہا بس میرے لیے دعاؤں کی درخواست ہے جب تک میں جاگ رہا ہوں اس وقت تک چین سے سوتے رہو جب میں چلا گیا تو تم کھبی سو نہیں پاؤ گے !!
تاریخ گواہ ہے صدام زندہ تھا تو عراق کی بیٹی بھی محفوظ تھی شام کی بیٹی بھی محفوظ تھی یمن کی بیٹی بھی یوں سمجھیں کہ پورا عرب سکون کی نیند سوتا اور سکون کی نیند اٹھتا تھا ۔
اچانک عرب نے یورپ کا ساتھ دیا صدام کو تنہا کر دیا یوں امریکہ نے عراق پر چڑھائی کر دی اور صدام حسین تختہ دار پر لٹک گیا ، آخری الفاظ صدام کے کہ اگر میری انگلی بھی اگر شعیہ ہوتی تو اسے بھی کاٹ کے پھینک دیتا یوں صدام حسین کو پھانسی دے دی گئی وہ دن اور آج کا دن سنی مسلمانوں کی نسل کشی شروع ہے پہلے عراق پر اور اب شام پر ظلم بربریت جاری ۔۔
تاریخ گواہ ہے جب تک صدام زندہ تھا اس وقت تک عرب میں کوئی دہشتگردی نہیں تھی کیونکہ عرب کا مجاہد صدام حسین تھا ۔
آج شام جل رہا ہے ، سعودیہ میں بغاوت ہے، یمن میں جنگ ، فلسطین میں ظلم ، جہاں دیکھو مسلمانوں پر ظلم ہے ۔۔
واحد ملک ترکی ہے جس نے کردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا ہے ۔۔
اللہ ترکی کو فتح نصیب فرمائے اور طبیب اردگان کو اللہ عمر دراز نصیب فرمائے ۔ آمین
یا اللہ ہم نے سنا تھا کہ قوم عاد پر عذاب آیا ، قوم سمود پر عذاب آیا ، قوم شعیب پر عذاب آیا ، قوم لوط پر عذاب آیا ، یا اللہ تو نے فرعون کو غرق کیا ، یا اللہ تو نے قارون کو غرق کیا ، یا اللہ تو نے نمرود کو غرق کیا ، یا اللہ تو آج ہم مظلوموں کی بھی فریاد سن لے ، میرے اللہ ، اسراہیل ، امریکہ ، آنڈیا کو تباہ برباد فرما ، یا اللہ تو فرشتوں کے ذریعے شام کے مسلمانوں کی مدد فرما۔ آمین

Friday, April 20, 2018

صدام کا مقبرہ تباہ اور لاش غائب لاش کہا گئی لوگ حیران

صدام حسین کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو کہ اپنے عوام کے ساتھ مخلص ہوتے ہیں اور ان کی ترقی کے لئے سب کچھ کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں صدام حسین نے ایران کے خلاف جو کہ شیعہ سٹیٹ ہے محاذ کھولا جو کہ کئئی سالوں تک جاری رہا اور اس کے بعد کویت کے خلاف امریکہ کے اکسانے پر محاذ کھولا ۔ جس کے بعد امریکہ نے خطرناک ہتھیاروں کا الزام لگا رکھ اس ملک کو تباہ کر ڈالا اور یہاں فرقہ واریت کو فروغ دیا جس نے اس ملک کی رہی سہی حالت کو بگاڑ کر رکھ دیا ۔ اور صدام حسین کو گرفتار کرنے کے بعد پھانسی دے ڈالی اور ایک جگہ اسے دفن کر ڈالا ۔ تفصیلات کے مطابق ایک ملائیشین نیوز ویب سائٹ نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ عراق کے شہر تکریت کے علاقے الوجا میں صدام حسین کا
مقبرہ تباہ کر دیا گیا ہے اور قبر سے سابق عراقی صدرکی لاش بھی غائب ہے۔ پاکستانی نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق صدام حسین کے قبیلے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ صدام حسین کے مقبرے کی چھت پر موجود داعش کےاسنائپر کو نشانہ بنانے کے لئے عراقی طیارے نے بمباری کی جس کے نتیجے میں مقبرہ تباہ ہوگیا.شیخ مناف کے مطابق وہ حملے کے وقت جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھے تاہم مقبرہ تباہ ہے اور صدام حسین کی قبر میں ان کی میت بھی موجود نہیں ہے علاقے کے سیکیورٹی چیف جعفر الغراوی کا کہنا ہے کہ صدام حسین کی میت وہیں موجود ہے جب کہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیںکہ صدام حسین کی جلاوطن کی گئی صاحبزادی ہالا نجی طیارے میں تکریت پہنچیں اور اپنے والد کی قبر کشائی کے بعد میت اردن لے
گئیں.مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ہالا کبھی عراق لوٹ کر نہیں آئیں تاہم صدام حسین کی قبر کھدی ہوئی ہے اور لاش بھی غائب ہے، نہیں جانتے کہ لاش کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور اس کے پس پردہ کون لوگ ہیں. مقامی افراد کا کہنا ہے کہ صدام حسین کے والد کا مقبرہ بھی گائوں کے داخلی راستے پر واقع تھا جسے دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا۔خیال رہے کہ 28 اپریل کو صدام حسین کی سالگرہ کے موقع پر ان کے قبیلے کے افراد اور حامی مقبرے پر حاضری دیتے ہیں اور سکول کے بچوں کو بھی سابق صدر کی سالگرہ کے موقع پر ان کے مزار پر آنا تھا۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ صدام حسین کے والد کا مقبرہ بھی گائوں کے داخلی راستے پر واقع تھا جسے دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا۔خیال رہے کہ 28 اپریل کو صدام حسین کی سالگرہ کے موقع پر ان

کے قبیلے کے افراد اور حامی مقبرے پر حاضری دیتے ہیں اور سکول کے بچوں کو بھی سابق صدر کی سالگرہ کے موقع پر ان کے مزار پر آنا تھا۔
لیکن حال میں ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں صدام حسین کی قبر کشائی ہو رہی ہے اور اس کے میت کو کہیں اور منتقل کیا جا رہاہے لیکن سب سے انوکھی بات یہ تھی کہ دس سال گزرنے کے بعد بھی لاش بالک صحیح سلامت تھی اور ایسا لگ رہا تھا کہ ابھی دفن کیا گیاہے ۔ اس کی لاش کو وہاں سے اس کے آبائی علاقہ میں منتقل کر دیا گیا ہے