Showing posts with label Good Things. Show all posts
Showing posts with label Good Things. Show all posts

Monday, April 23, 2018

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ٣٣ ارب ڈالر میں دونگا! پاکستانی شخص کے دبنگ اعلان نے سب کو ہلا کر رکھ دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ٣٣ ارب ڈالر میں دونگا! پاکستانی شخص کے دبنگ اعلان نے سب کو ہلا کر رکھ دیا. تفصیل پڑھیں
امریکہ کے 33ارب ڈالر کے طعنے کے جواب میں پاکستانی شہری نے ٹرمپ کے نام 33ارب ڈالر کا چیک کاٹ دیا ،تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کا ٹرمپ مخالف بیان آجکل شہہ سرخیوں میں ہے ۔اس بیان کے بعد پاکستانی قیادت اور عوام کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ایسے میں مختلف ٹرینڈز بھی سوشل میڈیا پر مقبول ہو رہے ہیں ۔
ایک تصویر انٹرنیٹ پر شدید وائرل ہو رہی ہے ۔تصویر میں پاکستانی شہری نے ٹرمپ کے نام 33ارب ڈالر کا چیک کاٹ دیا۔چیک پر ٹرمپ کے بارے میں مخصوص لفظ استعمال کر کے شہری نے اپنا غصہ بھی نکالنے کی کوشش کی ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں میں امریکی صدر نے پاکستان مخالف ٹوئیٹ میں کہا تھا کہ پاکستان کو 33ارب ڈالر امداد سے کر بے وقوفی کی۔


Friday, April 20, 2018

میں‌تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنا چاہتا ہوں وہ کہاں رہتے ہیں‌چینی سائنس دان نے ایسا کیوں‌کہا

اس بات میں کسی مسلمان کو شک نہیں‌کہ اللہ کا آخری بھیجا ہوا دین مکمل ہے اور اس پر عمل پیرا ہونے سے دین و دنیا میں‌اللہ کی جانب سے کامیابیاں‌ہیں‌چھوٹا سے چھوٹا عمل بھی انسان کی زندگی میں‌بدلاؤ کے لئے کافی ہے اب وضو کو ہی دیکھ لیں‌کہ اس میں بظاہر اعضاء کو مخصوص طریقہ سے دھونا ہوتا ہے لیکن اس میں‌بہت سے طبی فوائد بھی پوشیدہ ہے جس کی وجہ سے
انسان کی صحت پر بے حد اثرات نمایاں ہوتے ہیں‌. ایک مسلمان وضو کر رہا تھا تو ایک چینی اسے کافی غور سے دیکھ رہا تھا جب وہ وضو کر چکا تو وہ چینی پاس آیا اور اپنا تعارف ایک
سائنس دان کی حیثیت سے کرانے کے بعد پوچھنے لگا کہ تمہیں‌یہ طریقہ کس نے بتایا ہے اور وہ آدمی کہاں رہتا ہے . اس پر مسلمان نے کہا کہ یہ طریقہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سکھلایا ہوا ہے اور یہ ہم روزانہ نماز میں‌پانچ بار کرتےہیں‌جس پر اس چینی نے کہا کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میں‌ملنا چاہتا ہوں . اس پر مسلماں‌نے کہا کہ انہیں‌تو اس دنیا سے
پردہ کئے ہوئے کئی صدیاں‌ہو چکی ہے . اس کے بعد اس چینی نے کہا کہ دیکھو جہاں تم نے وضو کیا ہے یہ تمام جگہییں‌ایسی ہیں‌جہاں‌قدرت کی طرف سے انسان کے جسم میں‌کچھ سوئچ لگے ہوئے ہیں‌جن کے مساج کرنے سے بہت سی بیماریاں انسان کے جسم سے جڑ جاتی ہے اور اس کے بعد اگر ورزش کی جائے تو انسان کبھی بیماری کا منہ نہیں‌دیکھیں‌گا . تم لوگ بہت خوش قسمت ہو جو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں‌ایسی عبادتیں سکھائی ہیں‌.

اس لیے میں بے پردہ رہتی ہوں اور مغربی طرز کا فیشن کرتی ہوں

ہمارے معاشرے میں کچھ خواتین یہ رائے رکھتی ہیں کہ مسلم خواتین کے لیے حجاب کرنا ضروری نہیں ہے اور قران میں کوئی بھی ایسی آیت نہیں ہے جو صاف لفظوں میں خواتین کے حجاب پہننے پر فرضیت ثابت کریں. آج کی اس پوسٹ میں ہم آپکو ایک طالب علم کی کہانی بتانے جارہے ہیں جس نے اپنے پیر و مرشد سے حجاب کے متعلق یہ سوال پوچھا اور پھر ...آگے سے پیر صاحب نے اس لڑکی کو کیسے سمجھایا؟ پڑھیں

ڈاکٹرجاسم صاحب کہتے ہیں، میرے پاس ایک طالب علم لڑکی آئی اور پوچھا:طالبہ : کیا قران پاک میں کوئی ایک بھی ایسی آیت ہے جو عورت پر حجاب کی فرضیت یا پابندی ثابت کرتی ہو؟ ڈاکٹر جاسم : پہلے اپنا تعارف تو کراؤطالبہ : میں یونیورسٹی میں آخری سال کی ایک طالبہ ہوں، اور میرے بہترین علم کے مطابق اللہ تبارک و تعالیٰ نے عورت کو حجاب کا ہرگز حکم نہیں دیا، اس لیئے میں بے پردہ رہتی ہوں.
ڈاکٹر جاسم : اچھا تو مجھے چند ایک سوال پوچھنے دوطالبہ : جی بالکل ڈاکٹر جاسم پوچھیں: اگر تمہارے سامنے ایک ہی مطلب والا لفظ تین مختلف طریقوں سے پیش کیا جائے تو تم کیا مطلب سمجو گی؟ طالبہ: میں کچھ سمجھی نہیں۔ ڈاکٹر جاسم : اگر میں تمہیں کہوں کہ مجھے اپنا یونیورسٹی گریجوایشن کی ڈگری دکھاؤ۔آپ نے پھر کہا: یا میں تمہیں کہوں کہ اپنی یونیورسٹی گریجوایشن کا رزلٹ کارڈ دکھاؤ۔ آپ نے پھر کہا: اور یا پھر میں تمہیں یوں کہوں کہ اپنی یونیورسٹی گریجوایشن کی فائنل رپورٹ دکھاؤ- تو تم کیا نتیجہ سمجو گی؟ طالبہ: میں ان تینوں باتوں سے یہی سمجونگی کہ آپ میرا رزلٹ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور ان تینوں باتوں میں کوئی بھی تو ایسی بات پوشیدہ نہیں ہے جو مجھے کسی شک میں ڈالے کیونکہ ڈگری، رزلٹ کارڈ یا فائنل تعلیمی رپورٹ سب ایک ہی بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ آپ میرا رزلٹ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر جاسم : بس، میرا یہی مطلب تھا جو تم نے سمجھ گئی ۔ طالبہ: لیکن آپ کی اس بات کا میرے حجاب کے سوال سے کیا تعلق ہے؟ڈاکٹر جاسم : اللہ تبارک و تعالیٰ نے بھی قرآن مجید میں تین ایسے استعارے استعمال کیئے ہیں جو عورت کے حجاب پر دلالت کرتے ہیں۔ طالبہ: (حیرت سے) وہ کیا ہیں اور کس طرح؟ ڈاکٹر جاسم : اللہ تبارک و تعالی نے پردہ دار عورت کی جو صفات بیان کی ہیں انہیں تین تشبیہات یا استعاروں (الحجاب – الجلباب – الخمار) سے بیان فرمایا ہے
جن کا مطلب بس ایک ہی بنتا ہے۔ تم ان تین تشبیہات سے کیا سمجھو گی پھر؟طالبہ : خاموش ڈاکٹر جاسم : یہ ایسا موضوع ہے جس پر اختلاف رائے تو بنتا ہی نہیں بالکل ایسے ہی جیسے تم ڈگری، رزلٹ کارڈ یا فائنل تعلیمی رپورٹ سے ایک ہی بات سمجھی ہو۔طالبہ: مجھے آپ کا سمجھانے کا انداز بہت بھلا لگ رہا ہے مگر بات مزید وضاحت طلب ہے۔ ڈاکٹر جاسم : پردہ دار عورتوں کی پہلی صفت (اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں – وليضربن بخمرهن على جيوبهن)
باری تعالیٰ نے پردہ دار عورتوں کی جو دوسری صفت بیان فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ (اے نبیؐ، اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں – (یايها النبي قل لأزواجك وبناتك ونساء المؤمنين يدنين عليهن من جلابيبهن)اللہ تبارک و تعالیٰ نے پردہ دار عورتوں کی جو تیسری صفت بیان فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ اگر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو –وإذا سألتموهن متاعا فأسالوهن من وراء حجاب
ڈاکٹر جاسم : کیا ابھی بھی تمہارے خیال میں یہ تین تشبیہات عورت کے پردہ کی طرف اشارہ نہیں کر رہیں؟
طالبہ: مجھے آپ کی باتوں سے صدمہ پہنچ رہا ہے۔ ڈاکٹر جاسم : ٹھہرو، مجھے ان تین تشبیہات کی عربی گرائمر سے وضاحت کرنے دو۔عربی گرائمر میں “الخمار” اس اوڑھنی کو کہتے ہیں جس سے عورت اپنا سر ڈھانپتی ہے، تاہم یہ اتنا بڑا ہو جو سینے کو ڈھانپتا ہوا گھٹنوں تک جاتا ہو۔ اور “الجلباب” ایسی کھلی قمیص کو کہتے ہیں جس پر سر ڈھاپنے والا حصہ مُڑھا ہوا اور اس کے بازو بھی بنے ہوئے ہوں۔
فی زمانہ اس کی بہترین مثال مراکشی عورتوں کی قمیص ہے جس پر ھُڈ بھی بنا ہوا ہوتا ہے۔تاہم “حجاب” کا مطلب تو وییسے ہی پردہ ہی بنتا ہے۔ طالبہ: جی میں سمجھ رہی ہوں کہ مجھے پردہ کرنا ہی پڑے گا۔ ڈاکٹر جاسم : ہاں، اگر تیرے دل میں اللہ اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہے تو۔اور ایک اور بات جان لے کہ: لباس دو قسم کے ہوتے ہیں:پہلا جو جسم کو ڈھانپتا ہے۔ یہ والا تو فرض ہے اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے۔دوسرا وہ جو روح اور دل کو کو بھی ڈھانپتا ہے۔
یہ دوسرے والا لباس پہلے سے زیادہ بہتر ہے، جیسا کہ اللہ تبارک وتعالی کا ارشاد مبارک ہے کہ : ً(اور بہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے – ولباس التقوى ذلك خير)۔ہو سکتا ہے کہ ایک عورت نے ایسا لباس تو پہن رکھا ہو جس سے اس کا جسم ڈھکا ہوا ہو لیکن اس نے تقویٰ کا لباس نا اوڑھ رکھا ہو۔ تو ٹھیک طریقہ یہی ہے کہ وہ دونوں لباس زیب تن کرے.