Showing posts with label Urdu Kahani. Show all posts
Showing posts with label Urdu Kahani. Show all posts

Friday, May 11, 2018

جو تمھارے حصے کا ہے وہ تمھیں ضرور ملے گا


مشہور مؤرخ ابن جریر طبری کہتے ہیں کہ میں ایک سال حج کے زمانے میں مکہ مکرمہ میں تھا تو میں نے خراسان ( اس دور میں خراسان‘ ایران اور افغانستان سمیت ارد گرد کے کئی ممالک کو کہا جاتا تھا) سے آئے ہوئے ایک شخص کو یہ اعلان کرتے ہوئے سنا ‘ وہ کہہ رہا تھا :’’ اے مکہ کے رہنے والو! اے حج کیلئے دور دراز سے آنے والو! میری ایک تھیلی گم ہو گئی ہے جس میں ایک ہزار دینار تھے ۔ جو شخص بھی مجھے وہ واپس کر دے تو اللہ تعالیٰ اُسے بہترین جزادے اور زادے اور جہنم سے آزادی عطا کرے‘‘( دینار سونے کا سکہ ہوتا تھا اور آج کل کے حساب سے اس کا وزن 4, 347گرام بنتا ہے ۔اس طرح اندازہ کر لیں کہ ایک ہزار دینار ، اچھا خاصا سونے کا خزانہ تھا)یہ اعلان سنتے ہی مکہ مکرمہ کے ایک بوڑھے صاحب اٹھے اور انہوں نے اُس اعلان کرنے والے کو مخاطب کر کے کہا :’’ اے خراسانی بھائی ! ہمارے شہر کے حالات آج کل بہت ہی دگرگوں ہیں ۔ ہر طرف قحط سالی نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں ۔ مزدوری کے مواقع بھی نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ فقر و غربت کا دور دورہ ہے ۔ آپ کیلئے میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ اُس شخص کیلئے جو آپ کا مال لوٹا دے‘ کچھ انعام کا اعلان کردو ۔ ممکن ہے کہ وہ مال کسی فقیر اور محتاج کے ہاتھ لگا ہو تو جب وہ انعام کا اعلان سنے گا تو آپ کا مال لا کر دے دے گا ۔ تاکہ اُسے بھی حلال طریقے سے کچھ دینار مل جائیں‘‘۔خراسانی شخص نے پوچھا:’’ آپ کے خیال میں ایسے شخص کا انعام کتنا ہونا چاہیے؟‘‘۔مکہ مکرمہ کے رہائشی اُن بزرگ عمر شخص نے کہا :’’ ایک ہزار دینار میں سے کم از کم سو دینار تو ہونے ہی چاہئیں ‘‘۔لیکن خراسانی شخص اس پر راضی نہیں ہوا اور اُس نے کہا :’’ میں اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے کرتا ہوں ۔ آج مجھے مال نہ ملا تو کوئی بات نہیں ‘روزِ قیامت تو مل ہی جائے گا ‘‘۔ابن جریرطبری کہتے ہیں کہ میں یہ سارا مکالمہ سن رہا تھا اور میں سمجھ گیا کہ یہ مال کسی اور کو نہیں اسی بابا جی کو ملا ہے لیکن یہ بغیر کسی حلال انعام کے اُسے واپس نہیں کرنا چاہتا ہے ۔ شاید یہ بہت محتاج اور فقیر ہے ۔ میں نے اپنے شک کو یقین میں بدلنے کیلئے اور اصل صورت حال سمجھنے کیلئے اُس کا پیچھا کیا کہ یہ کہاں جاتا ہے؟وہ بابا جی اپنی جگہ سے اٹھے اور مکہ مکرمہ ایک پرانے محلہ کے کچے گھر میں داخل ہوئے ۔ ابن جریر طبری باہر کان لگا کر سن رہے تھے ۔ اندر گھر سے آواز آئی کہ بابا جی اپنی اہلیہ کو کہہ رہے تھے:’’ اے لبابہ ! دیناروں کا مالک مل چکا ہے اور اب ہمیں دینار واپس ہی کرنے پڑیں گے ۔ میں نے اُسے کچھ انعام دینے کا ہی کہا لیکن وہ تو اس سے بھی انکاری ہے‘‘۔کئی دنوں سے فاقے کی ستائی ہوئی اہلیہ نے جواب دیا :’’ میں پچاس سال سے آپ کے ساتھ غربت بھری زندگی بسر کر رہی ہوں لیکن کبھی اپنی زبان پر حرفِ شکایت نہیں لائی ۔ لیکن اب تو کئی دنوں سے فاقہ ہے ۔ پھر ہم دونوں کی ہی بات نہیں ۔ گھر میں ہماری چار بیٹیاں ، آپ کی دو بہنیں اور آپ کی والدہ بھی ہیں ۔ انہی کا کچھ خیال کر لو ۔ یہ مال جیسا بھی ہے آج خرچ کر لو ۔ کل کو ممکن ہے کہ اللہ تمہیں مالدار کر دے تو یہ قرض چکا دینا ‘‘۔بابا جی نے اپنی لرزتی ہوئی آواز میں کہا:’’ کیا میں ۸۶ برس کی عمر میں آکر اب حرام کھانا شروع کردوں‘ جبکہ میں نے پوری زندگی صبر وشکر میں گزاردی ہے ۔ اب تو یوں سمجھو کہ میں قبر میں پائوں لٹکائے بیٹھا ہوں ۔ مجھ سے یہ نہ ہو سکے گا۔‘‘ اس پر بیوی بھی خاموش ہو گئیابن جریر طبری کہتے ہیں میں یہ سب باتیں سن کر بہت حیران ہوا اور واپس حرم شریف آگیا ۔ اگلے دن جب سورج کچھ بلند ہوا تو وہ ہی کل والا خراسانی شخص اپنے گم شدہ مال کا اعلان کرنے لگا ۔ پھر وہ ہی بابا جی کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا :’’اے خراسانی بھائی! میں نے کل بھی آپ کو ایک مفید مشورہ دیا تھا اگر آپ ہزار دینار میں سے سو دینار نہیں دے سکتے تو دس دینار ہی دے دو تاکہ اگر کسی غریب‘ فقیر ‘ محتاج کو آپ کا مال ملا ہے تو اُس کا بھی کچھ بھلا ہو جائے ‘‘۔ابن جریر طبری کہتے ہیں کہ اس طرح دوسرا دن بھی بیت گیا اور خراسانی شخص کو اُس کا مال نہیں مل سکا ۔ جب تیسرے دن کی صبح ہوئی تو پھر وہ آکر اپنے گم شدہ مال کا اعلان کرنے لگا ۔ اب پھر وہ ہی بابا جی کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا :’’خراسانی بھائی! میں نے پرسوں آپ کو سو دینار انعام کا اعلان کرنے کا مشورہ دیا لیکن آپ نہیں مانے ۔ کل دس دینار کا مشورہ دیا ‘ اُس پر بھی آپ نے انکار کر دیا ۔ چلو! ایک دینار انعام کا ہی اعلان کر دو ، ممکن ہے کہ جس غریب کو مال ملا ہے ‘ اُس کے گھر میں کئی دن سے فاقہ ہو تو وہ ایک دینار سے اپنے اہل و عیال کیلئے کچھ کھانے کا ہی انتظام کر لے گا ‘‘۔خراسانی شخص نے پھر بڑی ہی تنگ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک دینار بھی دینے کیلئے تیار نہیں ہوں ۔ اپنا مال لوں گا تو پورا لوں گا ورنہ روزِ قیامت ہی فیصلہ ہو گا ۔جب بابا جی نے یہ سنا تو اُن کا پیمانۂ صبر لبریز ہو گیا اور اُس خراسانی شخص کا دامن اپنی طرف کھینچتے ہوئے کہا:’’میرے ساتھ آئو کہ میں تمہارا مال واپس کردوں ۔ اللہ کی قسم! جب سے یہ مال مجھے ملا ہے‘ میں ایک پل بھی سکون کی نیند نہیں سو سکا ہوں‘‘۔ابن جریر طبری کہتے ہیں کہ میں بھی چپکے سے ان کے پیچھے پیچھے چل دیا ۔ بابا جی اپنے گھر میں داخل ہوئے ۔ دینار لیے اور باہر نکل کر وہ سارے دینار اُس خراسانی شخص کو دیتے ہوئے کہا:’’اللہ تعالیٰ مجھے معاف کر دے اور اپنے فضل سے ہمیں رزق عطا فرمائے‘‘۔مجھے اُن کے پیچھے گھر سے رونے اور سسکیوں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی کہ سب کئی دن فاقے سے تھے ۔ اُس خراسانی شخص نے تسلی سے اپنے دینار گنے اور روانہ ہو گیا ۔ ابھی وہ تھوڑا ہی آگے گیا تھا کہ اچانک مڑا اور اُن بابا جی کی کنیت سے اُنہیں مخاطب کر کے کہنے لگا:’’اے ابو غیاث! میرے والد کا انتقال ہوا تو انہوں نے اپنی میراث میں تین ہزار دینار چھوڑے تھے اور وصیت کی تھی کہ شرعی طریقے پر اس کا تیسرا حصہ یعنی ہزار دینار فقراء و مساکین پر صدقہ کر دئیے جائیں اور میں مکہ مکرمہ سے یہ مال اسی نیت سے لایا تھا کہ کسی فقیر اور محتاج کو دے کر اپنے لیے اور اپنے مرحوم والد کیلئے دعا کروائوں گا ۔ مجھے اس سفر میں آپ سے زیادہ سفید پوش کوئی نظر نہیں آیا ‘ اس لیے یہ مال رکھ لو اور اپنی ضروریات میں خرچ کرو‘‘۔یہ سن کر ابو غیاث کی آنکھوں سے تشکر بھرے آنسو رواںہو گئے اور انہوں نے خراسانی شخص اور اس کے والد ِ مرحوم کو خوب دعائیں دیں ۔ پھر جب وہ خراسانی شخص وہاں سے جانے لگا میں بھی واپس ہونے کیلئے مڑا تو پیچھے انہی بابا جی ’’ابو غیاث‘‘ کی آواز سنائی دی :’’ بیٹا ! رک جائو ۔ میں پہلے دن سے دیکھ رہا ہوں کہ تم میرا پیچھا کر رہے ہو اور پورے معاملے سے باخبر ہو ۔ میںنے اپنے شیخ احمد بن یونس یربوعیؒ سے اور انہوں نے امام مالکؒ سے اور امام مالکؒ نے حضرت نافع ؒ سے سنا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بتاتے تھے کہ جنابِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کو فرمایا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی ہدیہ (تحفہ) بغیر مانگے اور بغیر نفس کے انتظار کے دے دے تو اُسے قبول کر لینا اور رد نہ کرنا‘‘۔پھر انہوں نے گھر کے نو افراد کیلئے سو ‘سو دینار الگ کیے اور پورا دسواں حصہ یعنی سو دینار مجھے عنایت کیے اور مجھے ساتھ ہی کہا کہ یہ حلال مال ہے ‘ اسے احتیاط سے خرچ کرنا ۔ابن جریر طبری کہتے ہیں میں وہ ہی سو دینار دو سال تک خرچ کرتا رہا اور خوب علم حاصل کیا ۔اللہ کریم ہم سب کو اپنے لطف و احسان سے اس کا یقین عطا فرما دے کہ جو رزق ہمارے نصیب میں لکھا ہے‘ وہ ہمیں ضرور ملے گا چاہے وہ کہیں بھی ہو اور جو رزق ہمارے حصہ کا نہیں ہے‘ وہ ہمارے کام نہیں آئے گا ‘ خواہ ہمارے ہاتھ میں ہی کیوں نہ ہو۔ بس رزقِ حلال کے اہتمام اور حرام روزی سے بچنے کی یہی کنجی ہے ۔ باقی رزقِ حلال کیلئے محنت ‘ مسنون دعائوں اور مقبول وظائف بھی بندے کو اللہ تعالیٰ سے جوڑنے کے ذرائع اور بہانے ہیں..!!

Thursday, April 26, 2018

میرا رشتہ ہو رہا یا سودا ؟



ﯾﮏ خاص ۔پوسٹ۔۔!"

معذرت کے ساتھ ایک کڑواسچ
اس تحریر نے سچ میں رولا دیا ۔۔😢😢
پلیز ایک بار ضرور پڑھنا۔۔
*******************
چائے رکھ کر وہ شرماتے ہوئے واپس مڑی تو ۔۔
اسے دیکھنے آنے والی آنٹی نے کہا ”بیٹی ہمارے پاس نہیں بیٹھو گی؟“
اسے جانے کیوں لگا تھا کہ آنٹی کے لہجے میں طنز ہے۔۔
وہ جھجکتے ہوئے بیٹھ گئی۔۔
اس کے مائینڈ میں وہ سب لوگ آنے لگے جو پہلے بھی اسے دیکھ کر جاتے تھے۔۔۔
طرح طرح کے سوال کرتے تھے۔۔۔بعد میں وہ ماما پاپا کی باتوں سے اندازہ لگاتی کہ اسے عمر اور کبھی ہائٹ کی وجہ سے ریجیکٹ کیا جاتا ہے۔۔۔
آج بھی وہ سوالات سے ڈری بیٹھی تھی کہ آنٹی جی کی آواز سنی
”بہنا کیا بتائیں ہم لڑکے والے جو ہوئے۔۔لڑکیاں آج کل کچھ زیادہ ہی ہو گئی ہیں ۔۔۔بہت رشتے آتے ہیں۔۔مگر کوئی دل کو نہیں لگی۔۔بیٹا ہمارا تو لاکھوں میں ایک ہے“
وہ لہجے میں غرور کو دیکھ سکتی تھی۔۔
”بیٹی تم نے میٹرک کب کیا ہے؟“ تم کیا کیا بنا لیتی ہو ؟
میرے بیٹے کو خوش رکھ سکو گی؟ بڑا نخریلو ہے ...
۔۔۔جواب دے دے کر اس کا دل رونے لگا تھا۔۔۔
”یا اللہ میں بیٹی ہوں یا جانور ؟ میرا رشتہ ہو رہا ہے یا سودا ؟ 
کل بھی میں بِک رہی تھی تب پیسوں میں ۔۔
آج بھی سودا کیا جاتا ہے۔۔ نکاح کے نام پر“
”بیٹی تم میرے بیٹے کے لیے۔۔۔۔۔“
”بس ماں بس “ وہ چیخ کر روی ماں کیا تم مجھے اس گھر میں تھوڈی جگہ نہیں دے سکتی ؟میں جاب کر کے کما لوں گی “ یہ رشے کے نام پر روز مجھے بیوپاریوں کے سامنے پیش کر کے رسوا نہ کرو۔۔۔
مجھے جس دین نے عزت دی آج وہ دین بس نمازوں تک مانا جا رہا ہے ۔۔ماں اگر وہ دین دلوں میں ہوتا تو اس طرح نہ ہوتا۔۔“
ماں رو پڑی مگر کچھ کہا نہیں۔۔
آنٹی نے اسے بد تمیز کہا اور ۔۔۔ کہا کہ” ہم لڑکے والے ہیں۔۔ہزاروں لڑکیاں مل جائیں گی“
😢😢😢😢
۔۔۔۔۔قسم سے یہ کہانی محض کہانی نہیں آج کل ایسا ہو رہا ہے۔۔میں نے تصویر دکھائی ہے۔۔
کہنا یہ ہے کہ۔۔ہم سٹوڈنٹس اپنے والدین کو سمجھا کر بیجھیں کہ سوال جواب کم سے کم لڑکیوں سے ایسے نہ کیے جائیں۔۔ان کے بارے کچھ پوچھنا ہو تو تنہائی میں ان کے والدین سے پوچھیں۔۔
وہ بیٹی ہے جیسی بھی ہو جب کوئی انکار کر کے جاتا ہے۔۔۔۔
اس کے دل پر کیا بیتتی ہے۔۔یہ وہ جانتی ہے۔۔
😢😢
قابل تعریف ہیں وہ لڑکیاں جو اپنے والدین کا مان ٹوٹنے نہیں دیتیں.
اللّٰہ پاک تمام بہن بیٹیوں کی حفاظت فرمائے آمین
اچھی بات کو دوسروں تک شئیر کرنا صدقہ جاریہ ہے...
*****************







🌻جزاك اللہ الخیر***ک***

Wednesday, April 25, 2018

عالمہ سے شادی اور پھر کیا ہوا؟

ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﻟﯽ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﻮ ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﻟﻤﮧ ﮬﻮﮞ ﺍﺳﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺴﺮ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ – ﻭﮦ ﺁﺩﻣﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ہوﺍ ﮐﮧ ﭼﻠﻮ ﺍﭼﮭﺎ ہوﺍ ﮐﮧ ﺑﯿﮕﻢ ﮐﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﻮ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮔﺰﺭﮮ ﮔﯽﻟﯿﮑﻦ کچھ ﺩﻧﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮑﻮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺩﯾﮑﮭﻮ ہم ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﻧﮯ ﮐﺎ ﻋﮩﺪ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻮﯼ ﭘﺮ ﺳﺴﺮ ﻭ ﺳﺎﺱ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻭﺍﺟﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﻧﮯ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﮬﮯ ﻟﮩﺬﺍ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮔﮭﺮ ﻟﮯ ﻟﻮ – ﻭﮦ ﺁﺩﻣﯽ ﺑﮍﺍ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ہوا ﮐﮧ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮔﮭﺮ ﻟﯿﻨﺎ ﺗﻮ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﺑﻨﮯ ﮔﺎ؟
ﺍﺱ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﻔﺘﯽ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ مدد ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻣﻔﺘﯽ ﺻﺎﺣﺐ کچھ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﻭ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﻨﺲ ﮔﯿﺎ ﮬﻮﮞ – ﻣﻔﺘﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﻭﮦ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﺮﺗﯽ ہے – ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺱ مسئلہ ﮐﮯ ﺣﻞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁﯾﺎ ہوﮞ ﻓﺘﻮﯼ ﻟﯿﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ – ﻣﻔﺘﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﺕ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﭨﮭﯿﮏ ﮬﮯ ﻟﯿﮑﻦ
ﺍﺳﮑﻮ ﻗﺎﺑﻮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮨﮯ . ﻭﮦ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺟﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﮐﮧ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﯽ ﺭﻭ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮬﻮﮞ ﻟﮩﺬﺍ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﺭہا ہوﮞ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﺭﮨﯿﮕﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﯾﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮔﮭﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﮬﻮﮞ ﺁﭖ ﻭﮨﺎﮞ ﺭہیں ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﺩﮬﺮ ﺭہے گی – ﺑﯿﻮﯼ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﺳﭩﻤﭩﺎ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﯽ ﭼﻠﻮ ﺩﻓﻌﮧ ﮐﺮﻭ ﺩﻭﺳﺮﯼﺷﺎﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﺩﮬﺮ ہی ﺭہوﻧﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﺮﻭﻧﮕﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﮐﺮﺍﻡ ﻣﺴﻠﻢ ﮬﮯ.

Monday, April 23, 2018

آپ کی چھوٹی انگلی کی ساخت آپ کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

ہر انسان کی انگلیوں کی ساخت الگ ہوتی ہے خصوصاً چھوٹی انگلی کی ساخت دوسرے سے مختلف ہوتی ہے ۔اس کی ساخت اور لمبائی کچھ ماہرین کے نزدیک آپ کی شخصیت ،سوچ اور دلچسپیوں کے بارے میں بتاتی ہے۔جنوبی کوریا میں اس انگلی کی ساخت اور لمبائی کو دیکھنے ہوئے لوگوں کی شخصیت کامطالعہ بھی کیا جاتا ہے،آئیے آپ کو ان کے بارے میں بتاتے ہیں۔
چھوٹی انگلی
اگر آپ کی چھوٹی انگلی ساتھ والی انگلی کے سب سے نچلے پور تک رہتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کی انگلی چھوٹی ہے۔ایسے لوگ اجنبیوں کے ساتھ ملتے ہوئے شرمیلے رہتے ہیں لیکن یہ دوسروں کے ساتھ دوستی بنانے میں دیر نہیں لگاتے۔ان کا دل بہت بڑاہوتا ہے اوربڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں۔ان کے دل میں جو آئے یہ وہ کرنے سے ذرا بھی نہیں ڈرتے۔

لمبی انگلی
اگر آپ کی انگلی ساتھ والی انگلی کے درمیان پور سے لمبی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کوئی بھی کام کرتے ہوئے جوش و جذبے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ان کی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ ان کی طرف متوجہ اور نزدیک رہیں۔یہ کافی لائق ہوتے ہیں لیکن اپنی قابلیت کومنوانے کے لئے انہیں محنت کی اشد ضرورت پڑتی ہے۔


ہر انسان کی انگلیوں کی ساخت الگ ہوتی ہے خصوصاً چھوٹی انگلی کی ساخت دوسرے سے مختلف ہوتی ہے ۔اس کی ساخت اور لمبائی کچھ ماہرین کے نزدیک آپ کی شخصیت ،سوچ اور دلچسپیوں کے بارے میں بتاتی ہے۔جنوبی کوریا میں اس انگلی کی ساخت اور لمبائی کو دیکھنے ہوئے لوگوں کی شخصیت کامطالعہ بھی کیا جاتا ہے،آئیے آپ کو ان کے بارے میں بتاتے ہیں۔
چھوٹی انگلی
اگر آپ کی چھوٹی انگلی ساتھ والی انگلی کے سب سے نچلے پور تک رہتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کی انگلی چھوٹی ہے۔ایسے لوگ اجنبیوں کے ساتھ ملتے ہوئے شرمیلے رہتے ہیں لیکن یہ دوسروں کے ساتھ دوستی بنانے میں دیر نہیں لگاتے۔ان کا دل بہت بڑاہوتا ہے اوربڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں۔ان کے دل میں جو آئے یہ وہ کرنے سے ذرا بھی نہیں ڈرتے۔
لمبی انگلی
اگر آپ کی انگلی ساتھ والی انگلی کے درمیان پور سے لمبی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کوئی بھی کام کرتے ہوئے جوش و جذبے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ان کی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ ان کی طرف متوجہ اور نزدیک رہیں۔یہ کافی لائق ہوتے ہیں لیکن اپنی قابلیت کومنوانے کے لئے انہیں محنت کی اشد ضرورت پڑتی ہے۔
Image result for last finger
ساتھ والی انگلی کے برار
ایسے لوگوں کی انگلی کا سائز ساتھ والی انگلی کے برابت ہوتا ہے۔ایسے لوگ طاقت،اقتدار کے بہت زیادہ شائق ہوتے ہیں ،ان میں بہت زیادہ قابلیت ہوتی ہے جس سے فائدہ اٹھا کر معاشرے کو کافی فائدہ ہوسکتا ہے۔ایسی انگلی کے حامل افراد ڈائریکٹر،معروف شخصیات یا سیاستدان بنتے ہیں۔

مربع شکل
ایسے لوگ جن کی انگلی کا پہلا حصہ مربع کی شکل کا ہوتو یہ بہت مخلص، بااعتماد اور اچھے رہنما ہوتے ہیں۔یہ ہر کام ایمانداری سے کرنے پر یقین رکھتے ہیں ۔ان سے دوستی مشکل ہوتی ہے لیکن اگر یہ دوستی کرلیں تو اسے آخڑی دم تک نبھاتے ہیں۔

نوکیلی انگلی
ایسے لوگ بہت اچھی تقریر کرتے ہیں اور اہنے دلائل سے دوسرے لوگوں کو قائل کرنے کا فن جانتے ہیں۔بولنے کے علاوہ یہ لکھنے میں بھی ماہر ہوتے ہیں۔ان کے لئے دوسری زبان سیکھنا زیادہ مشکل نہیں ہوتا اور بات چیت کے فن کی وجہ سے انہیں امور خارجہ میں کامیابی بھی ملتی ہے۔


مخروطی شکل
وہ لوگ جن کی چھوٹی انگلی ساتھ والی انگلی کی جانب مڑی ہووہ دوستانہ ماحول میں رہنا پسند کرتے ہیں۔وہ لڑائی جھگڑوں سے گھبراتے ہیں اور ان سے دور بھاگتے ہیں۔اگر انہین دوناراض لوگوں کے درمیان صلح کروانے کاکام دیا جائے تو یہ اسے بخوبی نبھاتے ہیں۔


واٹس ایپ کے کچھ ایسے حیرت انگیز پوشیدہ ٹِرکس جن کے بارے میں آپ آج سے پہلے نہیں جانتے ہونگے ۔۔ انہیں جان کر آپ کو فائدہ ضرور ہوگا


لاہور(ویب ڈیسک) تاہم بہت کم افراد اس ایپ میں موجود پوشیدہ ٹرکس کو جانتے ہیں جو اس کے استعمال کو مزید دلچسپ بنا دیتی ہیں۔ یہاں ہم آپ کو ایسی ہی چھ دلچسپ ٹرکس کے بارے میں بتا رہے ہیں۔
میسج ڈیلیٹ کرنے کا آپشن
واٹس ایپ کی حالیہ اپ ڈیٹ کے بعد اب پیغامات کو بھیجنے کے بعد ڈیلیٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس فیچر کو پیغام بھیجنے کے سات منٹ کے اندر ہی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بلیو ٹک سے بچیں اگر آپ اپنے کسی دوست کو یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتے

کہ آپ اُس کا بھیجا ہوا پیغام پڑھ چکے ہیں تو اس کے لیے اُس کا بھیجا ہوا پیغام ائیرپلین موڈ آن کر کے پڑھیں۔ اس طرح سے اُسے اپنے بھیجے ہوئے پیغام کے ساتھ نیلا ٹِک نہیں نظر آئے گا۔

واٹس ایپ ڈیٹا کا کم استعمال
واٹس ایپ میں موجود ڈیٹا یوزج مینیو کی مدد سے موبائل ڈیٹا کے زیادہ استعمال کو روکا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے تصاویر، آڈیو، ویڈیو اور دستاویزات کا آٹو ڈائون لوڈ کا آپشن وائی فائی سے کنکٹ کریں۔

اپنی مرضی کے نوٹیفکیشن
واٹس ایپ میں نوٹیفکیشنز کو کسٹمائز بھی کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کسی خاص انسان کے پیغام کا انتظار کر رہے ہیں تو اُس کی چیٹ کھولیں، اُس کے نام پر انگلی سے چھوئیں، اُس کے بعد کسٹم نوٹیفکیشنز کے ذریعے اپنی مرضی کی سیٹنگز لگا لیں۔

گفتگو کو اَن ریڈ کریں
اگر آپ کسی کے پیغامات کا جواب فراغت میں دینا چاہتے ہیں تو اس کی گفتگو پر کچھ لمحوں تک انگوٹھا دبائے رکھیں، کچھ آپشنز ظاہر ہوں گی، اُن میں سے مارک اِٹ اَن ریڈ کا انتخاب کریں۔ اس طرح آپ کو وہ گفتگو اِن ریڈ نظر آئے گی۔


گفتگو ای میل کریںواٹس ایپ میں کسی گفتگو کو ای میل بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے گفتگو کھولیں۔ مور کو چھوئیں اور ای میل کنورزیشن کی آپشن کے ذریعے تمام گفتگو کو ای میل کر لیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ٣٣ ارب ڈالر میں دونگا! پاکستانی شخص کے دبنگ اعلان نے سب کو ہلا کر رکھ دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ٣٣ ارب ڈالر میں دونگا! پاکستانی شخص کے دبنگ اعلان نے سب کو ہلا کر رکھ دیا. تفصیل پڑھیں
امریکہ کے 33ارب ڈالر کے طعنے کے جواب میں پاکستانی شہری نے ٹرمپ کے نام 33ارب ڈالر کا چیک کاٹ دیا ،تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کا ٹرمپ مخالف بیان آجکل شہہ سرخیوں میں ہے ۔اس بیان کے بعد پاکستانی قیادت اور عوام کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ایسے میں مختلف ٹرینڈز بھی سوشل میڈیا پر مقبول ہو رہے ہیں ۔
ایک تصویر انٹرنیٹ پر شدید وائرل ہو رہی ہے ۔تصویر میں پاکستانی شہری نے ٹرمپ کے نام 33ارب ڈالر کا چیک کاٹ دیا۔چیک پر ٹرمپ کے بارے میں مخصوص لفظ استعمال کر کے شہری نے اپنا غصہ بھی نکالنے کی کوشش کی ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں میں امریکی صدر نے پاکستان مخالف ٹوئیٹ میں کہا تھا کہ پاکستان کو 33ارب ڈالر امداد سے کر بے وقوفی کی۔


Sunday, April 22, 2018

اماں محبت کیا ہوتی ہے؟


ایک طوائف کی بیٹی جوان ہوئی تو ایک دن اپنی ماں سے پوچھنے لگی کہ ’’اماں محبت کیا ہوتی ہے؟؟؟‘‘ طوائف جل کر بولی’’ ہونہہ مفت عیاشی کے بہانے‘‘۔ہمارے ہاں زیادہ تر محبت کی شادیاں‘ نفر ت کی طلاقوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں
لیکن پھر بھی دھڑا دھڑ محبتیں اور ٹھکا ٹھک طلاقیں جاری ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ محبت سے نفرت کا سفر ایک شادی کی مار ہے۔کتنی عجیب بات ہے کہ لڑکا لڑکی اگر ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو جائیں
تو ان کی محبت بڑھنے کی بجائے دن بدن کم ہوتی چلی جاتی ہے؟ ایک دوسرے سے اکتاہٹ محسوس ہونے لگتی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ محبت کا آغاز خوبصورت اور انجام بھیانک نکلتا ہے؟؟؟ آخرایک دوسرے کی خاطر مرنے کے دعوے کرنے والے ایک دوسرے کو مارنے پر کیوں تل جاتے ہیں؟
وجہ بہت آسان ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلبل کا بچہ کھچڑی بھی کھاتا تھا‘ پانی بھی پیتا تھا‘ گانے بھی گاتا تھا‘ لیکن جب اسے اڑایا تو پھر واپس نہ آیا۔ اس لیے کہ محبت آزادی سے ہوتی ہے
‘ قید سے نہیں۔ ہمارے ہاں الٹ حساب ہے‘ جونہی کسی لڑکے کو کسی لڑکی سے محبت ہوتی ہے‘ ساتھ ہی ایک عجیب قسم کی قید شروع ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
لڑکیوں کی فرمائشیں کچھ یوں ہوتی ہیں’’شکیل اب تم نے روز مجھے رات آٹھ بجے چاند کی طرف دیکھ کر آئی لو یو کا میسج کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب ہم چونکہ ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے
ہیں لہذا ہر بات میں مجھ سے مشورہ کرنا ۔۔۔۔۔۔۔روز انہ کم ازکم پانچ منٹ کے لیے فون ضرور کرنا۔۔۔۔۔۔۔میں مسڈ کال دوں تو فوراً مجھے کال بیک کرنا۔۔۔۔۔۔۔فیس بک پر روز مجھے کوئی رومانٹک سا میسج ضرور بھیجنا۔۔۔۔۔۔۔
لڑکوں کی فرمائشیں کچھ یوں ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔جان! اب تم نے اپنے کسی Male کزن سے بات نہیں کرنی۔۔۔۔۔۔۔کپڑے خریدتے وقت صرف میری مرضی کا کلر خریدنا۔۔۔
۔۔۔۔وعدہ کرو کہ بے شک تمہارے گھر میں آگ ہی کیوں نہ لگی ہو‘ تم میرے میسج کا جواب ضرور دو گی۔۔۔۔۔۔۔جان شاپنگ کے لیے زیادہ باہر نہ نکلاکرو‘ مجھے اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔۔۔‘‘
محبت کے ابتدائی دنوں میں یہ قید بھی بڑی خمار آلود لگتی ہے‘ لیکن جوں جوں دن گذرتے جاتے ہیں دونوں طرف کی فرمائشیں بڑھتے بڑھتے پہلے ڈیوٹی بنتی ہیں پھر ضد اور پھر انا کا روپ دھار لیتی ہیں
اور پھر نفرت میں ڈھلنے لگتی ہیں۔ اسی دوران اگر لڑکے لڑکی کی شادی ہوجائے تو رہی سہی کسر بھی پوری ہو جاتی ہے۔ میری ذاتی رائے میں محبت آسانیاں پیدا کرنے کا نام ہے‘ لیکن ہم لوگ اسے مشکلات کا گڑھ بنا دیتے ہیں۔
غور کیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں جن سے محبت ہوتی ہے ہم جگہ جگہ ان کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں‘ ہم اپنے بچے کے بہتر مستقبل کے لیے اپنا پیٹ کاٹ کر اس کی فیس دیتے ہیں‘ خود بھوکے بھی رہنا پڑے
تو اولاد کے لیے کھانا ضرور لے آتے ہیں‘ لائٹ چلی جائے تو آدھی رات کو اپنی نیند برباد کرکے‘ ہاتھ والا پنکھا پکڑ کر بچوں کو ہوا دینے لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔ہم بے شک جتنے مرضی ایماندار ہوں لیکن اپنے
بچے کی سفارش کرنی پڑے تو سارے اصول بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔یہ ساری آسانیاں ہوتی ہیں جو ہم اپنی فیملی کو دے رہے ہوتے ہیں کیونکہ ہمیں اُن سے محبت ہوتی ہے۔
اسی طر ح جب لڑکے لڑکی کی محبت شروع ہوتی ہے تو ابتداء آسانیوں سے ہی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔اور یہی آسانیاں محبت پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں‘ لیکن آسانیاں جب مشکلات اور ڈیوٹی بننا شروع ہوتی ہیں
تو محبت ایک جنگلے کی صورت اختیار کرنے لگتی ہے‘ محبت میں ڈیوٹی نہیں دی جاسکتی لیکن ہمارے ہاں محبت ایک فل ٹائم ڈیوٹی بن جاتی ہے‘ ٹائم پہ میسج کا جواب نہ آنا‘ کسی کا فون اٹینڈ نہ کرنا‘ زیادہ دنوں تک ملاقات نہ ہونا ۔۔۔۔۔۔۔
ان میں سے کوئی بھی ایک بات ہو جائے تو محبت کرنے والے شکایتی جملوں کا تبادلہ کرتے کرتے زہریلے جملوں پر اُتر آتے ہیں اور یہیں سے واپسی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔
جب کوئی کسی کے لیے آسانی پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تو محبت بھی اپنا دامن سکیڑنے لگتی ہے‘ میں نے کہا ناں۔۔۔۔۔۔محبت نام ہی آسانیاں پیدا کرنے کا ہے ‘ ہم اپنے جن دوستوں سے محبت کرتے ہیں
ان کے لیے بھی آسانیاں پیدا کرتے ہیں‘‘ اللہ تعالیٰ بھی چونکہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے‘ اس لیے ان کے لیے جا بجا آسانیاں پیدا کرتا ہے۔
مجھے محبت میں گرفتار ہونے والے بالکل بھی پسند نہیں‘ محبت گرفتاری نہیں رہائی ہے۔۔۔۔۔۔ٹینشن سے رہائی۔۔۔۔۔۔تنہائی سے رہائی۔۔۔۔۔۔مایوسی سے رہائی۔ لیکن ہمارے معاشرے میں محبت ہوتے ہی ٹینشن ڈبل ہو جاتی ہے
اور دونوں پارٹیاں ذہنی مریض بن کر رہ جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محبت شروع تو ہو جاتی ہے لیکن پوری طرح پروان نہیں چڑھ پاتی۔ لیکن جہاں محبت اصلی محبت کی شکل میں ہوتی ہے وہاں نہ صرف پروان چڑھتی ہے
بلکہ دن دوگنی اور’’رات‘‘ چوگنی ترقی بھی کرتی ہے۔
ہمارا المیہ ہے کہ ہمارے ہاں محبت سے مراد صرف جنسی تعلق لیا جاتا ہے‘ یہ محبت کا ایک جزو تو ہوسکتا ہے لیکن پوری محبت اس کے گرد نہیں گھومتی‘ بالکل ایسے جیسے کسی اسلم کا ایک ہاتھ کاٹ کر الگ کر دیا جائے
تو اُس کٹے ہوئے ہاتھ کو کوئی بھی اسلم نہیں کہے گا‘ اسلم وہی کہلائے گا جو جڑے ہوئے اعضاء رکھتا ہوگا۔ ویسے بھی یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ساری محبت کا انحصار چند لمحوں کی رفاقت کو قرار دے دیا جائے۔محبت زندان نہیں ہوتی‘ حوالات نہیں ہوتی‘ جیل نہیں ہوتی‘ بند کمرہ نہیں ہوتی‘ کال کوٹھڑی نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔محبت تو تاحد نظر ایک کھلا میدان ہوتی ہے جہاں کوئی جنگلے‘ کوئی خاردار تاریں اور کوئی بلند دیواریں نہیں ہوتیں۔ آپ تحقیق کر کے دیکھ لیجئے‘ جہاں محبت ناکام ہوئی ہوگی وہاں وجوہات یہی مسائل بنے ہوں گے۔ ہر کوئی اپنی محبت جتلاتا ہے اور دوسرے کو بار بار یہ طعنے مارتا ہے کہ تمہیں مجھ سے محبت نہیں۔
لوگ کہتے ہیں کہ محبت کی نہیں جاتی‘ ہو جاتی ہے۔ غلط ہے۔۔۔۔۔۔۔محبت کی ایک چھوٹی سی کونپل دل میں از خود ضرور پھوٹتی ہے لیکن اسے تناور درخت بنانے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ وہ محبت کبھی کامیاب نہیں
ہو سکتی جہاں شکوے ‘شکایتیں اور طعنے شامل ہو جائیں۔ ایسے لوگ بدقسمت ہیں جو محبت کرنا نہیں جانتے لیکن محبت کر بیٹھتے ہیں اور پھر دوسرے کو اتنا بددل کر دیتے ہیں کہ وہ محبت سے ہی انکاری ہو جاتا ہے۔
کیا وجہ ہے کہ محبت کی شادی کرنے والے اکثر جوڑوں کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد اس رستے پر نہ چلے۔ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہم میں سے اکثر نے صرف محبت کا نام سنا ہے‘ اس کے تقاضوں سے واقف نہیں۔
ہمیں کوئی پسند آجائے تو ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں اس سے محبت ہو گئی ہے۔ پسند آنے اور محبت ہونے میں بڑا فرق ہے‘ کسی کو پسند کرنا محبت نہیں ہوتا لیکن محبت تک پہنچنے کے لیے پہلا زینہ ضرور ہوتا ہے۔
میں نے بے شمار لوگوں کو انا کے خول میں لپٹے محبت کرتے دیکھا ہے‘ یہ محبت میں بھی اپنی برتری چاہتے ہیں‘ ان کے نزدیک محبت میں بھی سٹیٹس ہوتا ہے‘
حالانکہ محبت میں تو محمود و ایاز کی طرح ایک ہونا پڑتا ہے‘ رہ گئی بات انا کی ‘ تو یہ وقتی سکون تو دے دیتی ہے لیکن اِس کمبخت کے سائڈ ایفیکٹس بہت ہیں!!
انا کی جنگ میں ہم جیت تو گئے لیکن
پھر اُس کے بعد بہت دیر تک نڈھال رہے
میں نے اسے کیوں ڈانٹ دیا؟
کرن اپنا کچن کا کام ختم کر کے ابھی ابھی فارغ ہوئی تھی اور اب وہ سوچ ہی رہی تھی کہ جا کر باہر سے کپڑے اتار کر لے آئے کیونکہ وہ اب تک سوکھ چکے ہوں گے کہ اس کا بیٹا عادل بھاگتا ہوا آیا اور بولا:
ماما ۔۔۔ماما۔۔۔احمد نے پھر سے ایک بونگی ماری ہے۔ اس کا ماں بہت تھکی ہوئی تھی اور بالکل کسی قسم کے مزاق کے موڈ میں نہ تھی۔ کرن نے غصے سے عادل کو گھورا۔ عادل کو اپنی ماں کے غصے سے بہت ڈر لگتا تھا
وہ ایک دم سہم گیا اور واپس چلا گیا۔ کمرے میں گیا تو دیکھا کہ احمد صاحب اپنے مارکر پکڑ کر دیوار پر تصاویر اور نئے نئے نقشے بنانے میں مشغول تھے۔
عادل سے نہ رہا گیا اور وہ جانتا تھا کہ اگر ابھی جا کر کرن کو نہ بتایا تو پورے گھر کی دیواروں پر صرف نقشے ہی نقشے نظر آنے والے تھے۔
وہ بھاگا ہوا دوبارہ اپنی ماں کی طرف گیا، دیکھا تو کرن باہر سے کپڑے اتار کر ٹوکری میں ڈال رہی تھی۔ وہ آرام سے گیا اور جا کر ماں کو بتایا کہ ماما پلیز میں مزاق نہیں کر رہا احمد نے ساری دیوار پر رنگ ہی
رنگ لگا دیے ہیں۔ آپ خود جا کر دیکھ لیں۔ کرن طیش میں آگئی اورزور سے چیخی: احمد۔۔احمد!۔۔۔احمد نے جیسے ہی اپنی ماں کی آواز سنی تو ایک چھلانگ لگائی اور جا کر الماری میں چھپ گیا
۔ وہ اپنی ماں کی اس آواز سے بخوبی واقف تھا اور اسے معلوم تھا کہ ابھی ایک نہ تھمنے والا طوفان اس کی طرف بڑھ رہا ہے ۔کرن کمرے میں آئی
اور ادھر ادھر اس کو تلاش کرنے لگی۔ اتنے میں اس کی نظر الماری پر پڑی جو کھلی تھی اور وہ سمجھ گئی کہ اس کا تین سال کا بیٹا کدھر چھپ کر بیٹھا ہے۔
وہ الماری کے پاس گئی اور احمد کو اس کے کان سے پکڑ کر باہر نکال لیا۔ پھر شدید غصے میں اس بیچارے کو دو تین منٹ تک اول فول سناتی رہی۔ وہ بیچارہ بالکل چپ کر کے اپنی ماں کی ڈانٹ سنتا رہا اور عادل دروازے کے پیچھے
سے اس کو منہ چڑاتا رہا۔ جب کرن کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا تو وہ واپس باہر گئی اور جا کر باقی کپڑے سمیٹنے لگ گئی۔ اتنے میں اسے خیال آیا کہ جا کر ایک سپنج سے گھر کی دیوار بھی صاف کر دے جس پر احمد نے اللہ جانے
اب کونسے ملک کا نقشہ کھینچا تھا۔ وہ اندر گئی تو دیکھا کہ دیوار پر احمد نے لکھا ہوا تھا کہ آئی لو مائی ماما۔۔۔اور اس کے گرد دل کی شکل کا ہالہ بنایا ہوا تھا۔ اس کی ماں نے دیکھا تو اس کا دل پگھل گیا۔ وہ احمد کے کمرے میں گئ
ی تو دیکھا کہ وہ بیچارہ ڈانٹ کھا کر سو گیا تھا، اس نے پیار سے احمد کو کس کیا اور کچھ پیسے اٹھا کر پرس میں رکھے اور بازار کا رخ کیا
۔ بازار جا کر اس نے ایک بہت خوبصورت سا فریم خریدا اور گھر آگئی۔ اس نے یہ خالی فریم احمد کی ڈرائنگ کے گرد لٹکا دیا اور وہ ایک بہت پیاری سی تصویر دکھنے لگی
احمد سو کر اٹھا تو دیکھا کہ ماما بیڈ پر بیٹھی تھیں۔ وہ پریشان ہو گیا کہ شاید ابھی اور ڈانٹ پڑنے والی ہے۔ کرن نے اسے پھر سے کس کیا اور بولی، میری جان ادھر آؤ، اس کو عادل کے کمرے میں اسی دیوار کے پاس لے گئ
ی اور فریم میں اسکی ڈرائنگ دکھائی۔ احمد نے دیکھا تو بہت خوش ہوا ۔ ہم اپنی تھکان میں اکثر بچوں کوڈانٹ دیتے ہیں لیکن ہمیں اس بات کا خاص خیال کرنا چاہیے کہ بچوں کی حوصلہ افزائی ان کو بہت خود اعتمادی دیتی ہے اور ان کی کامیابی کا راز ہوتی ہے۔

جب حضوراکرمﷺکی سواری مبارک جنت کے دروازے پر پہنچی تو آپ ؐ نے جنت کے دروازے پر کیا لکھا ہوا دیکھا؟

جب حضورکریم ؐ کی سواری جنت کے دروازے پر پہنچی تو انہوں نے جنت کے دوروازے پر لکھا ہوا دیکھا(1) خیرات کا دس گناہ ثواب ہے 2 قرض بے سود دینے کا اٹھارا گناثواب ہے ۔
حضرت صلی ا ﷲ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ جبرئیل اسکا کیا مطلب ہے ‘ جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا سائل تو کبھی بلا ضرورت بھی مانگتا ہے اور دینے والا دیتا بھی ہے ‘برخلاف اس کے سخت ضرورت والا ہی قرض مانگتا ہے
‘ خیرات مانگنے والے کو عادت ہوتی ہے ‘ قرض مانگنے والے کو عادت نہیں ہوتی ‘ شرم سے کٹا جاتا ہے ‘ ان وجوہات کی وجہ سے قرض دینے کا بڑا ثواب ہے ۔ جس وقت حضور صلی ا ﷲ علیہ وسلم جنت کے دروازہ پر پہنچتے اس وقت کی پوری کیفیت کو ئی کیا بیان کر
سکتا ہے البتہ کسی شاعر نے اس کیفیت کو کسی قدر یوں ظاہر کیا ہے ۔ پہنچے جس دم فردوس پر شاہ عالم ۔۔۔ چلی جنت کی ہوا لینے کو سرور کے قدم نوبت آمد کی بجانے لگے غنچے پیہم۔۔۔ بلبلیں گانے لگیں نعت کے نغموں کو بہم پہنچا رضوان
تو گلدستئہ جنت لے کر۔۔۔ اور ادریس بڑھے نور کا خلعت لے کر جب حضرت صلی ا ﷲ علیہ وسلم دروازہ سے گذرنے لگے تو فرشتہ نور کا طبق بھر بھر کے سر پر سے نثار کرنے لگے
 جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا یا رسول ا ﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم جب سے جنت بنی ہے ‘ اس وقت سے یہ فرشتے اس لئے مقرر ہیں کہ قیامت کے دن آپ اور آپ کی امت یہاں سے گذرے تو اسی طرح طبق نثار کریں.